امریکی اور اسرائیلی حکام کا کہنا ہے کہ اسرائیلی افواج غزہ کے کچھ علاقوں سے انخلا کے ابتدائی مرحلے کو مکمل کر چکی ہیں، تاہم فلسطینی شہریوں کو خبردار کیا گیا ہے کہ وہ چند مخصوص مقامات پر جانے سے گریز کریں۔
اسرائیلی وزارتِ انصاف نے 250 فلسطینی قیدیوں کی فہرست جاری کی ہے جنہیں حماس کے قبضے میں موجود اسرائیلی یرغمالیوں کے بدلے رہا کیا جائے گا، تاہم اس فہرست میں ان فلسطینی مزاحمتی رہنماؤں کے نام شامل نہیں جن کی رہائی کا مطالبہ حماس نے کیا تھا۔
ادھر اطلاعات کے مطابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ جلد اسرائیل کے ہنگامی دورے پر جا سکتے ہیں، جہاں انہیں اسرائیلی پارلیمنٹ ’کنیسٹ‘ سے خطاب کی دعوت دی گئی ہے۔ ٹرمپ نے گزشتہ روز کہا تھا کہ وہ ممکنہ طور پر مصر بھی جائیں گے جہاں جنگ بندی کے معاہدے پر باضابطہ دستخط متوقع ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ وہ اُس وقت خطے میں موجود ہو سکتے ہیں جب غزہ میں باقی یرغمالیوں کی رہائی کا عمل مکمل ہوگا۔
یورپی رہنماؤں، جن میں فرانس کے صدر ایمانویل میکرون، جرمنی کے چانسلر فریڈرش میرٹس اور برطانیہ کے وزیرِاعظم کیئر اسٹارمر شامل ہیں، نے اسرائیل اور حماس کے درمیان جنگ بندی، یرغمالیوں کی رہائی اور غزہ میں انسانی امداد کی بحالی کا خیرمقدم کیا ہے۔ اپنے مشترکہ بیان میں انہوں نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ، مصر اور قطر کے کردار کو سراہا جنہوں نے اس معاہدے کے قیام میں اہم کردار ادا کیا۔







