دوسری جانب پاکستان نے مکہ مکرمہ کی سمت حملے کی کوشش اور سعودی شہری علاقوں و تنصیبات پر حوثی حملوں کی شدید مذمت کرتے ہوئے واضح کیا ہے کہ حرمین شریفین کی حرمت اور سعودی عرب کی خودمختاری و علاقائی سالمیت کے تحفظ پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا۔
دفتر خارجہ کے مطابق پاکستان خطے میں بڑھتی کشیدگی کا جائزہ لے رہا ہے اور تنازعات کے حل کے لیے سفارت کاری، مذاکرات اور سیاسی ذرائع کو ترجیح دینے پر زور دیتا ہے۔
ترکیہ نے بھی مکہ مکرمہ پر مبینہ حوثی ڈرون حملے کی مذمت کرتے ہوئے خطے کے استحکام کو متاثر کرنے والی کارروائیاں فوری روکنے کا مطالبہ کیا ہے۔ ترک وزارت دفاع کے مطابق بحیرہ احمر اور باب المندب میں حوثیوں کی مسلسل دھمکیاں علاقائی سلامتی، بین الاقوامی بحری تجارت اور عالمی استحکام کے لیے نقصان دہ ہیں۔
یمن کے محاذوں، سعودی عرب کے خلاف حملوں اور عالمی ردعمل کے تناظر میں صورتحال مسلسل بدل رہی ہے۔
حوثی حملوں کے علاقائی امن اور استحکام کے لیے سنگین نتائج ہو سکتے ہیں، پاکستان
مادھو لعل حسین چانڈیو
16 ستمبر، 2026پاکستان نے سعودی عرب کی خودمختاری، علاقائی سالمیت، سلامتی اور خوشحالی کی حمایت کرتے ہوئے کہا ہے کہ حوثی حملے بحری سلامتی کو شدید نقصان پہنچاتے ہیں اور خطے کے ممالک کے امن اور ترقی کے لیے خطرہ ہیں۔ جمعے کو بحرین کے مستقل مشن کے زیر اہتمام ’محفوظ سمندر، مشترکہ سکیورٹی۔ بدلتے ہوئے سکیورٹی ماحول میں جہاز رانی کی آزادی کا تحفظ‘ کے موضوع پر سلامتی کونسل کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے اقوام متحدہ میں پاکستان کے مستقل مندوب سفیر عاصم افتخار احمد نے حوثی حملوں کو فوری طور پر روکنے کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ ’اس طرح کے اشتعال انگیز اقدامات کے ’سمندری سکیورٹی اور علاقائی امن اور استحکام کے لیے سنگین نتائج ہو سکتے ہیں۔‘






