جج ولیم سلیوان نے جیوری کی جانب سے 7 روز تک غور و خوض کے باوجود متفقہ فیصلہ نہ آنے پر مقدمے میں مس ٹرائل کا اعلان کیا۔ جج نے فریقین کو بتایا کہ وہ مقدمے کی دوبارہ سماعت موسم خزاں کے آخر میں کرانے پر غور کر رہے ہیں، جب کہ آئندہ پیش رفت کے لیے ماہ کے اختتام پر اسٹیٹس کانفرنس بھی مقرر کردی گئی ہے۔
لنڈسے کلینسی کے وکیل کیون ریڈنگٹن نے فوری طور پر دوبارہ ٹرائل شروع کرنے کی خواہش ظاہر کی، تاہم جج سلیوان نے کہا کہ وہ بھی مقدمہ جلد شروع کرنے کے حق میں ہیں لیکن عدالت کے شیڈول کو دیکھنے کے بعد حتمی فیصلہ کریں گے۔
دوسری جانب پراسیکیوشن نے فوری طور پر دوبارہ ٹرائل کے حوالے سے کوئی فیصلہ نہیں کیا۔ پلائی ماؤتھ کاؤنٹی کے ڈسٹرکٹ اٹارنی ٹموتھی کروز نے صحافیوں سے گفتگو میں کہا کہ مقدمہ دوبارہ چلانے کا فیصلہ آئندہ عدالتی سماعت میں کیا جائے گا۔
لنڈسے کلینسی اس وقت فرسٹ ڈگری مرڈر کے تین الزامات میں بغیر ضمانت کے ٹیوبری ہسپتال، میساچوسٹس میں زیرِ حراست ہیں۔ میساچوسٹس کے قانون کے تحت فرسٹ ڈگری قتل کے الزامات کا فیصلہ جیوری ٹرائل کے ذریعے ہی کیا جاتا ہے۔
پراسیکیوشن کے پاس ایک راستہ یہ بھی موجود ہے کہ وہ کلینسی کو کم درجے کے جرم میں اعترافِ جرم کی پیشکش کرے۔ بوسٹن کی دفاعی وکیل ایلیس ہرشون کے مطابق حتمی فیصلہ ڈسٹرکٹ اٹارنی ہی کرے گا کہ کیس دوبارہ فرسٹ ڈگری مرڈر کے طور پر چلایا جائے یا کسی کم درجے کے الزام پر سمجھوتے کی کوشش کی جائے۔
اگر استغاثہ الزامات کم کرنے پر آمادہ ہوتا ہے تو دونوں فریق ممکنہ طور پر دوسرے ٹرائل سے بچنے کے لیے plea agreement پر پہنچ سکتے ہیں۔
مقدمے کے دوران جیوری کی تقسیم نے پراسیکیوشن کے لیے بھی صورتحال پیچیدہ کردی ہے۔ ریٹائرڈ میساچوسٹس جج کیرول ایرسکائن کے مطابق جیوری کے 11 ارکان کا مبینہ طور پر استغاثہ کے پیش کردہ پری میڈیٹیٹڈ مرڈر کے مؤقف سے اتفاق نہ کرنا پراسیکیوشن کے لیے دوبارہ 12 متفقہ جیوررز حاصل کرنے کے امکانات کو مشکل بنا سکتا ہے۔
کیس کو دوسری جگہ منتقل کرنے کی درخواست بھی ممکنہ طور پر سامنے آسکتی ہے۔ دفاع یا استغاثہ یہ مؤقف اختیار کرسکتے ہیں کہ پلائی ماؤتھ کاؤنٹی میں مقدمے کی غیر معمولی میڈیا کوریج کے باعث منصفانہ ٹرائل متاثر ہوسکتا ہے۔
مقدمے کے دوران ایک کلینسی حامی خاتون کی گرفتاری نے بھی کیس کی حساسیت میں اضافہ کیا۔ خاتون پر عدالت کی پارکنگ میں جیوررز کی ویڈیو بنانے اور مبینہ طور پر انہیں خوفزدہ کرنے کا الزام عائد کیا گیا۔ اس واقعے کے بعد نئے ٹرائل میں جیوری کو ممکنہ دباؤ یا دھمکیوں سے محفوظ رکھنے کے حوالے سے بھی سوالات اٹھ سکتے ہیں۔
مزید پڑھیں: روس-یوکرین جنگ کے خاتمے کی نئی کوشش، امریکی وفد ٹرمپ کا ’امن منصوبہ‘ لے کر ماسکو پہنچ گیا
دوسرے ٹرائل کی صورت میں فریقین اس بات پر بھی دوبارہ بحث کرسکتے ہیں کہ کون سے شواہد اور ماہر گواہوں کو عدالت میں پیش ہونے کی اجازت دی جائے۔
دفاعی وکیل ریڈنگٹن پہلے ہی استغاثہ کے ماہر گواہوں پر تنقید کرچکے ہیں اور ممکن ہے کہ وہ ان ماہرین کی دوبارہ گواہی روکنے کی کوشش کریں۔ تاہم دفاع کو مستقبل میں ان ماہرین کو کلینسی تک دوبارہ رسائی دینے کی پابندی نہیں ہوگی۔
ماہرین، جن میں ڈاکٹر ایورام میک بھی شامل ہیں، نے حالیہ مہینوں میں کلینسی سے ملاقات کی تھی اور ٹرائل کے دوران اس کی ذہنی کیفیت اور قتل کے وقت اس کی حالت کے بارے میں گواہی دی۔
اب کیس کا اگلا مرحلہ ڈسٹرکٹ اٹارنی کے اس فیصلے پر منحصر ہے کہ آیا لنڈسے کلینسی کے خلاف مقدمہ دوبارہ چلایا جائے، الزامات میں تبدیلی کی جائے یا فریقین کسی plea agreement کی طرف بڑھیں۔






