پوپ لیو نے یہ بات اتوار کو روم کے قریب واقع کاسٹل گاندولفو میں ہفتہ وار عبادت کے بعد گفتگو کرتے ہوئے کہی۔ ان کا بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب مغربی کنارے میں اسرائیلی آبادکاروں کے فلسطینیوں پر حملوں اور کشیدگی میں اضافہ دیکھنے میں آ رہا ہے۔
پوپ لیو نے فلسطینی شہریوں کے خلاف بار بار ہونے والے تشدد کے خاتمے کے مطالبے کو دہراتے ہوئے عالمی برادری پر زور دیا کہ وہ محض تشویش کے اظہار تک محدود نہ رہے بلکہ منصفانہ اور دیرپا امن کے قیام کے لیے عملی اقدامات کرے۔
پوپ کا بیان مغربی کنارے کے قصرا علاقے میں پیدا ہونے والی کشیدہ صورتحال کے پس منظر میں سامنے آیا ہے، جہاں فلسطینی خاندانوں کے گھروں کے اطراف اسرائیلی آبادکاروں کی جانب سے محاصرے اور راستوں کی بندش کی اطلاعات سامنے آئی ہیں۔
رپورٹس کے مطابق بعض فلسطینی گھروں کے گرد گھیرا ڈالنے کے دوران پانی اور بجلی کی سہولیات بھی منقطع کی گئیں، جس کے باعث وہاں موجود خاندانوں کو شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔ حالیہ دنوں میں قصرا مغربی کنارے میں آبادکاروں اور فلسطینی باشندوں کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی کا اہم مرکز بن گیا ہے۔
انسانی حقوق کی تنظیموں اور دیگر ذرائع کا کہنا ہے کہ ایسے واقعات فلسطینی آبادی کے لیے نہ صرف فوری سکیورٹی خطرات پیدا کرتے ہیں بلکہ ان کے گھروں اور زمینوں سے بے دخلی کے خدشات بھی بڑھاتے ہیں۔
پوپ لیو نے ایک مرتبہ پھر اسرائیل اور فلسطین کے مسئلے کے سیاسی حل کے لیے دو ریاستی فارمولے کی حمایت کا اعادہ کیا۔ ویٹی کن طویل عرصے سے ایسے حل کی حمایت کرتا آیا ہے جس کے تحت اسرائیل اور ایک آزاد فلسطینی ریاست امن کے ساتھ ساتھ موجود ہوں۔
پوپ کا کہنا تھا کہ عالمی برادری کو ایک منصفانہ اور پائیدار امن کے حصول کے لیے دو ریاستی حل کو آگے بڑھانے کے لیے فوری اقدامات کرنے چاہئیں۔
مغربی کنارے میں اسرائیلی بستیوں کی توسیع طویل عرصے سے اسرائیل اور فلسطینیوں کے درمیان تنازع کا ایک بنیادی مسئلہ رہی ہے۔ اقوام متحدہ اور بیشتر ممالک اسرائیلی آبادکاری کو بین الاقوامی قانون کے تحت غیر قانونی قرار دیتے ہیں، جبکہ اسرائیل مغربی کنارے کی حیثیت کو متنازع قرار دیتا ہے۔
حالیہ عرصے میں آبادکاروں کے حملوں، فلسطینی خاندانوں کی نقل مکانی اور زمین و پانی کے وسائل تک رسائی کے مسائل نے عالمی سطح پر تشویش میں اضافہ کیا ہے۔ رواں سال مغربی کنارے میں آبادکاروں کے حملوں اور فلسطینیوں کی ہلاکتوں سے متعلق بھی متعدد رپورٹس سامنے آ چکی ہیں۔
پوپ لیو کی تازہ اپیل ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب عالمی سطح پر اسرائیل اور فلسطین تنازع کے مستقل سیاسی حل، شہریوں کے تحفظ اور خطے میں پائیدار امن کے لیے سفارتی کوششوں پر زور دیا جا رہا ہے۔







