ان پانچ صحافیوں میں فلسطینی فوٹو جرنلسٹ مریم ابو دغہ بھی شامل تھیں، جو خبررساں ادارے 'انڈیپینڈنٹ عریبیہ' اور ایسوسی ایٹڈ پریس کے لیے کام کرتی تھیں۔ مریم کی عمر 33 برس تھی اور وہ جنگ کے دوران غزہ میں کام کرنے والی نمایاں خواتین صحافیوں میں شمار ہوتی تھیں۔

لیکن ایک سال بعد سامنے آنے والی تفصیلات نے اس حملے کے بارے میں ایک بڑا سوال کھڑا کر دیا ہے کہ کیا یہ محض ایک غلطی تھی یا پہلے حملے کے بعد جائے وقوعہ پر پہنچنے والے صحافیوں اور امدادی کارکنوں کو دوبارہ نشانہ بنایا گیا؟

مریم کی آخری صبح

دی انڈیپنڈنٹ کی تازہ تحقیق کے مطابق حملے سے چند گھنٹے قبل مریم اپنی قریبی دوست اور ساتھی صحافی براء لافی کے ساتھ ناصر اسپتال کے قریب اپنے عارضی گھر میں موجود تھیں۔ دونوں صحافی اسپتال میں مریضوں کے رش اور طبی سہولیات کی صورتحال پر ایک رپورٹ تیار کر رہی تھیں۔

مریم پہلے ہی کئی بار بے گھر ہو چکی تھیں۔ ان کا 14 سالہ بیٹا غیث گزشتہ برس غزہ سے متحدہ عرب امارات جا چکا تھا۔ ان کی والدہ مئی 2024 میں علاج کی سہولت نہ ملنے کے باعث کینسر سے انتقال کر گئی تھیں جب کہ والد بھی علیل تھے۔

دی انڈیپنڈنٹ کے مطابق مریم نے اپنی موت سے صرف چند روز قبل اپنے ایڈیٹر کو ایک وائس نوٹ بھیجا تھا جس میں انہوں نے خدشہ ظاہر کیا کہ انہیں ایک بار پھر نقل مکانی کرنا پڑ سکتی ہے۔

"مجھے نہیں معلوم کہاں جاؤں، میرے پاس جانے کے لیے کوئی جگہ نہیں۔" یہ ان کے آخری پیغامات میں سے ایک تھا۔

وہ جگہ جہاں صحافی روز بیٹھتے تھے

ناصر اسپتال کی چوتھی منزل پر ایک بیرونی سیڑھی صحافیوں کے لیے غیر رسمی میڈیا پوائنٹ بن چکی تھی۔ یہاں سے رپورٹرز لائیو نشریات کرتے، موبائل سگنل حاصل کرتے اور اپنے کیمروں کے ذریعے خان یونس کی صورتحال دنیا تک پہنچاتے تھے۔

خبررساں ادارے رائٹرز کے مطابق اس مقام پر اس کا لائیو کیمرہ کئی دن سے نصب تھا اور اسرائیلی فوج اس بات سے واقف تھی کہ خبر رساں ادارے کی ٹیم اسپتال میں موجود ہے۔

حملے کے دن بھی رائٹرز کے کیمرہ مین حسام المصری اسی مقام پر موجود تھے۔ صبح تقریباً 10 بجے ایک دھماکا ہوا۔ حسام جاں بحق ہوگئے۔

لیکن کہانی یہیں ختم نہیں ہوئی۔ پہلے حملے کے بعد صحافی، طبی عملہ اور سول ڈیفنس کے اہلکار زخمیوں اور لاشوں کی مدد کے لیے سیڑھیوں کی جانب دوڑ پڑے۔

مریم بھی وہاں پہنچ گئیں۔ موقع پر موجود افراد زخمیوں کو نکال رہے تھے، ویڈیوز بنا رہے تھے اور صورتحال کو دنیا تک پہنچا رہے تھے۔

پھر دوسرا دھماکا ہوا۔ رائٹرز کے مطابق دوسرا حملہ اسی مقام پر ہوا جہاں پہلے حملے کے بعد امدادی کارکن اور صحافی جمع ہوئے تھے۔

اسی دوسرے حملے میں مریم ابو دغہ، الجزیرہ کے کیمرہ آپریٹر محمد سلامہ، فری لانس صحافی معاذ ابو طحہ اور احمد ابو عزیز سمیت مزید افراد شہید ہوگئے جب کہ رائٹرز کے فوٹوگرافر حاتم خالد زخمی ہوئے۔

یوں چند ہی منٹ پہلے جہاں صحافی دوسروں کی موت ریکارڈ کر رہے تھے، وہی جگہ خود موت کا منظر بن گئی۔

’ڈبل ٹیپ‘ حملہ کیا ہوتا ہے؟

جنگی اصطلاح میں ڈبل ٹیپ اسٹرائیک اس کارروائی کو کہا جاتا ہے جس میں کسی مقام پر پہلا حملہ کیا جائے اور پھر امدادی کارکنوں یا دیگر افراد کے جائے وقوعہ پر پہنچنے کے بعد اسی مقام کو دوبارہ نشانہ بنایا جائے۔

ناصر اسپتال کے واقعے میں بھی یہی ترتیب سامنے آئی۔ پہلے حملہ کیا گیا پھر امدادی کارکنوں اور صحافیوں کے جمع ہونے کے بعد دوسرا حملہ کیا گیا۔

دی گارڈین نے بھی رپورٹ کیا کہ پہلے حملے کے بعد زخمیوں کی مدد کے لیے پہنچنے والے صحافیوں اور ریسکیو اہلکاروں کو تقریباً 15 منٹ بعد دوبارہ حملے کا سامنا کرنا پڑا۔

اسرائیل کا مؤقف کیا تھا؟

اسرائیلی فوج نے حملے کی تصدیق کرتے ہوئے کہا کہ اس کا ہدف ایک ایسا کیمرہ تھا جسے فوج کے مطابق حماس نے اسرائیلی فوجیوں کی نگرانی کے لیے نصب کیا تھا۔

اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو نے واقعے کو ٹریجک میس ہیپ' یعنی ایک المناک غلطی قرار دیا اور کہا کہ اسرائیل صحافیوں، طبی عملے اور عام شہریوں کے کام کی قدر کرتا ہے۔ لیکن یہاں سے کہانی کا دوسرا رخ شروع ہوتا ہے۔

کیمرہ کس کا تھا؟

رائٹرز کی بعد کی تحقیقات نے اسرائیلی دعوے پر سوالات اٹھائے۔ رائٹرز کے مطابق جس کیمرے کو اسرائیلی فوج نے حماس سے منسلک قرار دیا، وہ دراصل رائٹرز کا لائیو کیمرہ تھا جو خان یونس کی صورتحال ریکارڈ کر رہا تھا۔

بصری شواہد اور رائٹرز کی تحقیقات کے مطابق اسرائیلی فوج اس میڈیا پوزیشن اور وہاں موجود صحافیوں سے واقف تھی۔ ایسوسی ایٹڈ پریس اور رائٹرز نے حملے کے بعد اسرائیلی حکام کو مشترکہ خط بھی بھیجا اور صحافیوں کی شہادتوں پر وضاحت طلب کی۔

یہی نکتہ اس واقعے کو محض ایک عام فضائی یا توپ خانے کے حملے سے کہیں زیادہ متنازع بناتا ہے۔

کیا دوسرا حملہ پہلے سے معلوم تھا؟

دی انڈیپنڈنٹ نے اپنی ایک سالہ تحقیقات میں درجنوں عینی شاہدین، ویڈیوز، سیٹلائٹ تصاویر، ہتھیاروں کے ماہرین اور اسرائیلی فوج کے دو سابق اہلکاروں سے بات کی۔

تحقیق میں یہ سوال اٹھایا گیا کہ پہلے دھماکے کے بعد جب صحافی، طبی عملہ اور امدادی کارکن واضح طور پر جائے وقوعہ پر جمع ہو چکے تھے تو تقریباً 10 منٹ بعد اسی مقام پر دوسرا حملہ کیسے ہوا۔

تحقیق میں شامل ایک اسرائیلی سابق اہلکار نے دی انڈیپنڈنٹ کو بتایا کہ دو ٹینک شیل کا یہ طریقہ کار محض اتفاقی کارروائی دکھائی نہیں دیتا اور ان کے بقول دوسرا حملہ اس وقت ہوا جب ہجوم وہاں جمع ہو چکا تھا۔

خیال رہے کہ یہ الزامات اور تجزیے آزاد عدالتی فیصلے کے برابر نہیں اور اسرائیلی فوج نے ان دعوؤں کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ واقعے کی تحقیقات جاری ہیں۔

دی انڈیپنڈنٹ کے سوالات کے جواب میں اسرائیلی فوج نے تفصیلی تبصرہ کرنے کے بجائے کہا کہ معاملہ جنرل اسٹاف کے فیکٹ فائنڈنگ میکانزم کے تحت زیرِ جائزہ ہے۔

دو ٹینک شیل اور ہتھیار

دی انڈیپنڈنٹ کی تحقیقات میں انسانی حقوق کے لیے آڈیو تحقیقات کرنے والی تنظیم 'ایئرشاٹ' نے حملے کی آوازوں اور مختلف کیمروں سے حاصل ہونے والی ویڈیوز کا تجزیہ کیا۔

تنظیم کے مطابق شواہد سے امکان ظاہر ہوتا ہے کہ حملے میں 120 ملی میٹر کا ٹینک شیل استعمال ہوا۔ ہتھیاروں کے ماہرین نے جائے وقوعہ سے ملنے والے ٹکڑوں کو بھی اسرائیلی ٹینک کے گولے سے مطابقت رکھنے والا قرار دیا۔

سیٹلائٹ تصاویر کے تجزیے میں بھی اسپتال سے تقریباً 2.5 کلومیٹر شمال مشرق میں ایک ٹینک پوزیشن کی نشاندہی کی گئی۔ تاہم یہ تجزیے بھی اس بات کا قطعی ثبوت نہیں کہ حملے کا حکم کس نے دیا یا اس کا حتمی مقصد کیا تھا۔

کیا یہ جنگی جرم ہو سکتا ہے؟

دی انڈیپنڈنٹ نے بین الاقوامی قانون کے ماہر کیون جون ہیلر سے بھی شواہد کا جائزہ لیا۔ ان کے مطابق اگر دستیاب شواہد ثابت ہو جائیں تو استغاثہ شہریوں کو جان بوجھ کر نشانہ بنانے اور غیر متناسب حملے جیسے ممکنہ جنگی جرائم کے الزامات پر غور کر سکتا ہے۔

کیون جیون کے بقول اگر کسی اسپتال کے اندر کسی مخصوص کیمرے کو نشانہ بنانے کا دعویٰ ہو بھی تو سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا اس مقصد کے لیے دو ہائی ایکسپلوسو ٹینک شیل استعمال کرنا متناسب کارروائی تھی؟

یہاں ایک اہم قانونی اصول بھی سامنے آتا ہے، اسپتال اور طبی عملہ بین الاقوامی انسانی قانون کے تحت خصوصی تحفظ رکھتے ہیں اور کسی مبینہ فوجی ہدف کے خلاف کارروائی میں شہریوں کو پہنچنے والے نقصان کو بھی مدنظر رکھنا ضروری ہے۔

مریم صرف ایک صحافی نہیں تھیں

مریم ابو دغہ کی کہانی صرف ایک جنگی حملے میں شہید ہوجانے والی صحافی کی کہانی نہیں۔ اے پی کے مطابق مریم غزہ کے انسانی بحران خصوصاً غذائی قلت کا شکار بچوں اور زخمی شہریوں کی زندگیوں کو اپنے کیمرے میں محفوظ کرتی تھیں۔ ان کی تصویری صحافت کو ایسوسی ایٹڈ پریس کی جانب سے بھی اعزاز دیا گیا تھا۔

وہ اپنے پیچھے ایک 14 سالہ بیٹا چھوڑ گئیں۔ حملے کے بعد ان کی دوست براء لافی نے مریم کی وصیت ان کے بیٹے تک پہنچائی۔ ایک صحافی جو دوسروں کی آخری کہانیاں دنیا تک پہنچاتی رہی، آخرکار خود ایک ایسی کہانی بن گئی جسے دنیا نے اپنے کیمروں کے ذریعے دیکھا۔

غزہ میں صحافت کی قیمت

ناصر اسپتال کا حملہ کسی ایک خاندان یا ایک نیوز روم کا المیہ نہیں تھا۔ کمیٹی ٹو پروٹیکٹ جرنلسٹس (سی پی جے) کے مطابق مریم ابو دغہ ان صحافیوں میں شامل تھیں جو 25 اگست 2025 کو ناصر اسپتال پر ہونے والے دو حملوں میں شہید ہوئے۔

رائٹرز، اے پی، الجزیرہ اور دیگر اداروں سے وابستہ صحافیوں کی ایک ہی واقعے میں شہادت نے عالمی سطح پر صحافیوں کے تحفظ کے سوال کو دوبارہ مرکزِ بحث بنا دیا۔

اقوام متحدہ کے انسانی حقوق کے دفتر نے بھی واقعے پر تشویش ظاہر کرتے ہوئے کہا تھا کہ صحافیوں کی شہادتوں کی تعداد خود اس سوال کو جنم دیتی ہے کہ آیا میڈیا کارکنوں کو نشانہ بنایا جا رہا ہے۔

ایک سال بعد بھی سوال باقی ہے

مریم ابو دغہ کو شہید ہوئے ایک سال گزر چکا ہے، لیکن ناصر اسپتال کے اس حملے کے بارے میں بنیادی سوال اب بھی اپنی جگہ موجود ہے کہ پہلا شیل کس کو نشانہ بنا رہا تھا؟ دوسرا شیل کیوں داغا گیا؟ اور کیا حملہ آوروں کو معلوم تھا کہ وہاں صحافی، ڈاکٹر اور امدادی کارکن جمع ہو چکے ہیں؟

اسرائیل اسے ایک المناک واقعہ اور حماس کے مبینہ کیمرے کو نشانہ بنانے کی کارروائی قرار دیتا ہے، جب کہ رائٹرز کی تحقیقات نے کیمرے کی شناخت کے اسرائیلی دعوے پر سوال اٹھائے ہیں اور دی انڈیپنڈنٹ کی تازہ تحقیق نے حملے کے طریقہ کار، ٹائمنگ اور ہدف کے حوالے سے مزید سوالات سامنے رکھے ہیں۔

فیصلہ کسی ایک خبر، ویڈیو یا دعوے سے نہیں بلکہ آزاد اور شفاف تحقیقات سے ہونا چاہیے۔لیکن ایک حقیقت پر کسی تحقیق کی ضرورت نہیں۔

25 اگست 2025 کو ناصر اسپتال کی سیڑھیوں پر مریم ابو دغہ اپنے کیمرے کے ساتھ موجود تھیں۔ چند لمحوں بعد وہ خود اس جنگ کی خبر بن چکی تھیں جسے دنیا تک پہنچانے کے لیے وہ اپنی جان خطرے میں ڈال رہی تھیں۔

'پاکستان میٹرز' کے لیے یہ واقعہ صرف غزہ میں ایک اور حملہ نہیں، بلکہ اس سوال کی علامت ہے کہ جنگ میں جب صحافی ہی محفوظ نہ رہیں تو دنیا تک پہنچنے والی سچائی کی قیمت آخر کتنی رہ جاتی ہے؟