مگر اب اسی کہانی کی ہندی فرنچائز ایک دلچسپ مرحلے میں داخل ہوچکی ہے۔ اجے دیوگن کی ’دریشم 3: دی کنکلوژن‘ نے چند ہی دنوں میں اپنی ملیالم اوریجنل فلم کی پوری تھیٹر رن کی کمائی کو پیچھے چھوڑ دیا ہے۔

تجارتی پورٹل Sacnilk کے اعداد و شمار کے مطابق اجے دیوگن کی فلم نے پہلے تین دنوں میں انڈیا میں تقریباً 176.50 کروڑ روپے نیٹ جب کہ دنیا بھر میں تقریباً 272.80 کروڑ روپے گراس کمائے۔

دوسری طرف موہن لال کی ملیالم ’دریشم 3‘ نے اپنی مکمل تھیٹر رن میں تقریباً 237.70 کروڑ روپے گراس کمائے تھے۔ یعنی ہندی فلم نے صرف چند دنوں میں وہ مجموعی عالمی کمائی عبور کرلی جو ملیالم فلم نے اپنی پوری نمائش کے دوران حاصل کی تھی۔ لیکن سوال یہ ہے کہ ایک ہی فرنچائز کی دو فلموں کے درمیان اتنا بڑا فرق کیوں آیا؟

’دریشم‘ کی کہانی کہاں سے شروع ہوئی؟

اس فرنچائز کی بنیاد 2013 میں رکھی گئی، جب ہدایت کار جیتو جوزف نے موہن لال کے ساتھ ملیالم فلم ’دریشم‘ بنائی۔ کہانی جارج کٹی نامی ایک عام آدمی کے گرد گھومتی ہے، جو اپنی فیملی کو ایک ایسے جرم سے بچانے کے لیے غیر معمولی ذہانت استعمال کرتا ہے جس میں پولیس افسر کا بیٹا مارا جاتا ہے۔

فلم کی اصل طاقت قتل یا پولیس کی تفتیش نہیں بلکہ یہ سوال تھا کہ اگر ایک عام آدمی اپنے خاندان کو بچانے کے لیے قانون سے بھی زیادہ چالاکی استعمال کرے تو کیا ہوگا؟

فلم کی کامیابی کے بعد اس کا اثر زبانوں کی سرحدیں عبور کرنے لگا۔ ’دریشم‘ کے تامل، تیلگو، کنڑ، ہندی، سنہالی، چینی اور انڈونیشیائی زبانوں میں بھی ورژن بنے۔ یوں جارج کٹی کی کہانی انڈیا کے مختلف فلمی بازاروں میں الگ الگ شکلوں میں پہنچ گئی۔

اجے دیوگن کی ’دریشم‘ نے کیا بدلا؟

2015 میں اجے دیوگن نے ہندی ورژن میں وجے سالگاؤںکر کا کردار ادا کیا۔ تبو، شریا سرن اور اشیتا دتا سمیت مضبوط کاسٹ نے اس کہانی کو ہندی ناظرین تک پہنچایا۔

پھر 2022 میں ’دریشم 2‘ آئی اور پہلی فلم کے مقابلے میں کہیں بڑی کامیابی حاصل کی۔ اس فلم نے اجے دیوگن کے کردار کو صرف ایک عام خاندان کے سربراہ سے بڑھا کر ایسے شخص کے طور پر مزید مضبوط کیا جو پولیس کے نظام، شواہد اور تفتیش کی نفسیات کو سمجھتا ہے۔

یوں ہندی ناظرین کے لیے ’دریشم‘ صرف ایک ملیالم فلم کا ریمیک نہیں رہی بلکہ وجے سالگاؤںکر کی اپنی فرنچائز بن گئی۔

پھر ’دریشم 3‘ میں کیا خاص ہے؟

یہاں سب سے اہم فرق سامنے آتا ہے۔ اجے دیوگن کی ’دریشم 3: دی کنکلوژن‘ کو ملیالم ’دریشم 3‘ کی لفظ بہ لفظ نقل نہیں بنایا گیا۔ رپورٹس کے مطابق ہندی فلم کی کہانی ایک نئے اور مختلف اختتام کے ساتھ آگے بڑھتی ہے۔

موہن لال کی ملیالم فلم کی کہانی سے الگ راستہ اختیار کرنے کا فیصلہ ہندی ورژن کے لیے اہم ثابت ہوا، کیونکہ اس کا مطلب یہ تھا کہ ناظرین کو پہلے سے معلوم کہانی دوبارہ دیکھنے کے بجائے وجے سالگاؤںکر کی کہانی کا نیا اختتام دیکھنے کی وجہ مل گئی۔

فلم کی ہدایت کاری ابھیشیک پاٹھک نے کی ہے جب کہ اجے دیوگن، تبو اور شریا سرن اپنے اہم کرداروں میں واپس آئے ہیں۔ جے دیپ اہلاوت اور پرکاش راج سمیت نئے اداکاروں کی شمولیت نے بھی فلم کے تنازع اور تفتیشی پہلو کو مزید وسعت دی ہے۔

پہلی بڑی وجہ: اجے دیوگن کی اسٹار پاور

ملیالم فلم کا مرکزی کردار موہن لال جیسے بڑے اداکار نے ادا کیا، لیکن دونوں فلموں کی مارکیٹ ایک جیسی نہیں۔ اجے دیوگن کی ہندی فلم کو انڈیا کے سب سے بڑے تھیٹر نیٹ ورک اور وسیع تر ہندی مارکیٹ تک رسائی حاصل ہوئی۔

’دریشم 3‘ کی ریلیز کے موقع پر ہندی فلم کو 17 ہزار سے زیادہ شوز ملے، جبکہ ملیالم ورژن کا تھیٹر نیٹ ورک اس کے مقابلے میں کہیں محدود تھا۔ یہی فرق ٹکٹوں کی مجموعی فروخت میں بہت بڑا اثر ڈالتا ہے۔ یعنی یہ صرف یہ نہیں کہ ہندی فلم زیادہ مقبول ہوئی؛ اسے زیادہ بڑے ناظرین تک پہنچنے کا موقع بھی ملا۔

دوسری وجہ: ’دریشم‘ صرف ایک ریمیک نہیں

2015 کی ’دریشم‘ اور 2022 کی ’دریشم 2‘ نے ہندی ناظرین کے ذہن میں وجے سالگاؤںکر اور اس کے خاندان کے کردار مضبوط کر دیے تھے۔

جب تیسری فلم سامنے آئی تو ناظرین کسی نئی کہانی کے آغاز کے لیے نہیں بلکہ ایک ایسے کردار کا آخری باب دیکھنے کے لیے سینما پہنچے جسے وہ پہلے ہی جانتے تھے۔

یہی وجہ ہے کہ ’دریشم 3‘ کی مارکیٹنگ میں سب سے بڑا سوال بھی یہی بنا کہ آخر وجے سالگاؤںکر اس بار پولیس سے کیسے بچے گا، یا کیا وہ واقعی اس بار پھنس جائے گا؟

تیسری وجہ: گاندھی جینتی کی چھٹی اور کم مقابلہ

فلم کو ریلیز ٹائمنگ کا بھی فائدہ ملا۔ ’دریشم: دی کنکلوژن‘ 2 اکتوبر 2026 کو ریلیز ہوئی، جو گاندھی جینتی کی قومی تعطیل تھی۔ اس کے علاوہ اس وقت فلم کو بڑے پیمانے پر کسی ایسے حریف کا سامنا نہیں تھا جو اس کے ابتدائی شوز اور اسکرینز کو شدید متاثر کرسکتا۔ پہلے سے موجود محدود مقابلے اور تعطیل نے اوپننگ کو مزید مضبوط کیا۔

نتیجہ یہ نکلا کہ فلم نے پہلے ہی دن اجے دیوگن کے کیریئر کی سب سے بڑی اوپننگز میں سے ایک حاصل کی۔ مختلف تجارتی ذرائع کے اعداد میں معمولی فرق ہے، لیکن Sacnilk کے حوالے سے رپورٹ ہونے والے اعداد و شمار کے مطابق فلم نے پہلے دن انڈیا میں تقریباً 62 کروڑ روپے نیٹ کمائے۔

چوتھی وجہ: ناظرین کو ’وہی کہانی‘ نہیں دی گئی

یہ شاید فلم کی سب سے اہم تخلیقی حکمت عملی ہے۔ اگر ہندی ’دریشم 3‘ بالکل وہی کہانی دہراتی جو موہن لال کی فلم میں دکھائی گئی تھی تو ایک بڑا سوال پیدا ہوتا: ناظرین اسے سینما میں دوبارہ کیوں دیکھیں؟

ہندی ورژن نے اس مسئلے کا حل ایک نئی کہانی اور مختلف اختتام کے ذریعے نکالا۔ اس طرح ’دریشم 3‘ نے ایک طرف پرانی فرنچائز کے شائقین کو برقرار رکھا اور دوسری طرف انہیں ایک ایسا اختتام دیا جس کے بارے میں وہ پہلے سے مکمل طور پر واقف نہیں تھے۔

لیکن کیا ملیالم ’دریشم 3‘ ناکام ہوگئی؟

نہیں۔ یہاں باکس آفس کے اعداد کو سیاق و سباق کے ساتھ دیکھنا ضروری ہے۔ موہن لال کی ’دریشم 3‘ نے مئی 2026 میں ریلیز کے بعد پہلے چار دنوں میں تقریباً 141 کروڑ روپے عالمی گراس کمائے تھے، جس میں بیرونِ ملک مارکیٹ کا حصہ بھی غیر معمولی طور پر مضبوط تھا۔ صرف کیرالہ نے اس کی انڈین کمائی کا بڑا حصہ فراہم کیا۔

مسئلہ یہ تھا کہ ملیالم فلم کی رسائی ہندی فلم کے مقابلے میں بہت محدود تھی۔ دوسری طرف ہندی ’دریشم‘ کو پہلے ہی دو فلموں کے ذریعے ایک وسیع قومی ناظرین مل چکا تھا۔ اس لیے دونوں فلموں کی کمائی کا براہِ راست موازنہ کرتے وقت زبان، اسکرینز، مارکیٹ اور ریلیز اسکیل کو نظر انداز نہیں کیا جاسکتا۔

دلچسپ بات: اصل فلم کی کامیابی نے ہی ہندی فلم کو طاقت دی

’دریشم‘ کی پوری کہانی میں ایک عجیب سا تضاد ہے۔ اگر 2013 کی ملیالم فلم کامیاب نہ ہوتی تو شاید اجے دیوگن کی ہندی فرنچائز وجود میں ہی نہ آتی۔

لیکن ہندی ریمیک کی کامیابی نے خود ایک نئی مارکیٹ بنادی۔ پھر ’دریشم 2‘ نے اس مارکیٹ کو مزید بڑا کیا اور اب ’دریشم 3‘ اسی تیار شدہ ناظرین کو سینما تک واپس لے آئی ہے۔ یعنی آج اجے دیوگن کی ’دریشم 3‘ جس رفتار سے کمائی کررہی ہے، اس کے پیچھے صرف ایک فلم نہیں بلکہ تیرہ سال پر پھیلی ہوئی ایک فرنچائز کی برانڈ ویلیو موجود ہے۔

اجے دیوگن کی فلم کہاں تک پہنچ سکتی ہے؟

تازہ تجارتی اعداد کے مطابق ’دریشم 3‘ پہلے پانچ دنوں میں انڈیا میں تقریباً 212.10 کروڑ روپے نیٹ کما چکی تھی اور ’دریشم 2‘ کی پوری انڈین نیٹ کمائی کے قریب پہنچ رہی تھی۔ پہلے تین دنوں میں ہی فلم کا عالمی گراس تقریباً 272.80 کروڑ روپے رپورٹ کیا گیا تھا۔

اس لیے اب سوال صرف یہ نہیں کہ اجے دیوگن کی ’دریشم 3‘ نے ملیالم اوریجنل کو پیچھے چھوڑ دیا ہے یا نہیں۔ اصل سوال یہ ہے کہ کیا وجے سالگاؤںکر کا آخری باب ہندی سنیما کی سب سے بڑی کرائم تھرلر فرنچائزز میں سے ایک کے طور پر ختم ہوگا؟

’دریشم‘ کی کامیابی کا راز شاید یہی ہے کہ اس نے کبھی صرف قتل کا معمہ بیچنے کی کوشش نہیں کی۔ اس نے ناظرین کے سامنے ایک ایسا اخلاقی سوال رکھا جس کا جواب ہر شخص اپنے انداز میں تلاش کرتا ہے کہ اگر اپنے خاندان کو بچانے کے لیے قانون اور اخلاق کے درمیان ایک راستہ چننا پڑے، تو آپ کس طرف جائیں گے؟ اور شاید یہی سوال ہے جس نے 2013 کی ایک ملیالم فلم کو 2026 میں اجے دیوگن کی سب سے بڑی ہندی فرنچائزز میں تبدیل کردیا۔