نوبل کمیٹی کے مطابق امن انعام کے لیے نامزد افراد اور تنظیموں کے نام 50 سال تک خفیہ رکھے جاتے ہیں، اس لیے رواں سال نامزد کیے جانے والے تمام امیدواروں کی سرکاری فہرست دستیاب نہیں۔ تاہم مختلف ماہرین اور اداروں کی جانب سے ممکنہ امیدواروں کے ناموں پر قیاس آرائیاں جاری ہیں۔
ناروے کے پیس ریسرچ انسٹی ٹیوٹ کے ڈائریکٹر ہاکون یرلو کے مطابق ڈونلڈ ٹرمپ کی شخصیت اس سال نوبل امن انعام کے اعلان پر ہونے والی بحث میں نمایاں طور پر موجود رہے گی۔
ان کا کہنا ہے کہ نوبل کمیٹی کو یہ بھی دیکھنا ہوگا کہ کسی مخصوص امیدوار کو انعام دینے سے امن کے مقصد کو فائدہ ہوگا یا اس کے برعکس اس کے منفی اثرات سامنے آسکتے ہیں۔
ٹرمپ کی نوبل امن انعام کی خواہش
ڈونلڈ ٹرمپ ماضی میں متعدد مرتبہ نوبل امن انعام نہ ملنے پر اپنی مایوسی کا اظہار کر چکے ہیں۔ وہ مختلف مواقع پر اپنے اقدامات اور بین الاقوامی تنازعات کے حل کے لیے کوششوں کو انعام کے لیے موزوں قرار دیتے رہے ہیں۔
اگرچہ رواں سال ٹرمپ کی جانب سے نوبل کمیٹی پر براہِ راست دباؤ ڈالنے کی کوئی نمایاں کوشش سامنے نہیں آئی، تاہم ماہرین کا کہنا ہے کہ کمیٹی کے کسی بھی فیصلے کو امریکی صدر کے حوالے سے دیکھا جا سکتا ہے۔
نوبل انسٹی ٹیوٹ کے سیکریٹری کرسٹیان برگ ہارپ ویکن نے اس حوالے سے کہا کہ نوبل کمیٹی پر دباؤ اور اثر انداز ہونے کی کوششیں کوئی نئی بات نہیں اور کمیٹی اس طرح کے حالات سے نمٹنے کی عادی ہے۔ ان کے مطابق انعام کے انتخاب کے دوران ہونے والی اندرونی بحث ان بیرونی دباؤ سے متاثر نہیں ہوتی۔
گزشتہ سال ماریا کورینا ماچاڈو کو نوبل امن انعام ملا
گزشتہ سال نوبل امن انعام وینزویلا کی اپوزیشن رہنما ماریا کورینا ماچاڈو کو دیا گیا تھا۔ ان کے انتخاب کو ٹرمپ کے لیے نسبتاً قابل قبول سمجھا گیا تھا۔
ماچاڈو نے بعد ازاں ٹرمپ کو ایک گولڈ میڈل بھی پیش کیا اور انہیں نوبل امن انعام کا مستحق قرار دیا، تاہم اس کے باوجود انہیں امریکی صدر کی جانب سے وہ سیاسی حمایت حاصل نہیں ہوئی جس کی وہ توقع کر رہی تھیں۔
اس سال ممکنہ امیدواروں میں بچوں کے تحفظ اور انسانی امداد کے لیے کام کرنے والی تنظیمیں بھی شامل ہوسکتی ہیں۔ ان میں سیو دی چلڈرن کا نام بھی زیرِ بحث ہے۔
یوکرین کے بچوں کے حقوق کے لیے کام کرنے والے کارکن میکولا کولیبا کا نام بھی ممکنہ امیدواروں میں لیا جا رہا ہے۔ وہ روس منتقل کیے گئے یوکرینی بچوں کو واپس لانے کی کوششوں میں سرگرم ہیں، جب کہ امریکی خاتون اول میلانیا ٹرمپ بھی اس معاملے میں دلچسپی ظاہر کر چکی ہیں۔
سوڈان میں جنگ اور قحط کے دوران متاثرہ افراد کی مدد کرنے والا رضاکار نیٹ ورک ’ایمرجنسی رسپانس رومز‘ بھی ممکنہ امیدواروں میں شامل ہے۔
دوسری جانب بعض ایسے نام بھی زیرِ بحث ہیں جنہیں ٹرمپ انتظامیہ کی پالیسیوں کے حوالے سے مختلف مؤقف رکھنے والا سمجھا جاتا ہے، جن میں مقبوضہ فلسطینی علاقوں کے لیے اقوام متحدہ کی خصوصی نمائندہ فرانسسکا البانیز، پوپ لیو چہاردہم، کمیٹی ٹو پروٹیکٹ جرنلسٹس، عالمی فوجداری عدالت اور عالمی عدالت انصاف شامل ہیں۔
ناروے کے پیس ریسرچ انسٹی ٹیوٹ کے مطابق دنیا میں مسلح تنازعات کی تعداد میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے اور 2025 میں کم از کم ایک ریاست کے شامل ہونے والے 65 مسلح تنازعات ریکارڈ کیے گئے، جو 1946 کے بعد بلند ترین تعداد ہے۔
نوبل تاریخ کے ماہر اسلے سوین کے مطابق موجودہ دور میں عالمی نظام کو بڑے چیلنجز کا سامنا ہے اور طاقتور ممالک اپنے اثر و رسوخ کے دائرے قائم کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔
نوبل انسٹی ٹیوٹ کے سیکریٹری کرسٹیان برگ ہارپ ویکن کا کہنا ہے کہ دنیا جس سمت میں آگے بڑھ رہی ہے وہ امن کے حوالے سے حوصلہ افزا نہیں، تاہم امن، انسانی حقوق اور جنگ سے متاثرہ افراد کے لیے کام کرنے والے افراد اور تنظیموں کی کمی نہیں۔
نوبل امن انعام کے فاتح کا اعلان جمعہ کو اوسلو میں ہوگا، جس کے بعد یہ واضح ہوجائے گا کہ اس سال نوبل کمیٹی نے عالمی امن کے لیے کن کوششوں کو سب سے زیادہ اہمیت دی ہے اور آیا اس فیصلے میں ڈونلڈ ٹرمپ کا نام یا ان کی خواہش کسی بھی انداز میں زیرِ بحث آتی ہے۔







