اس بار قصہ یہ ہے کہ چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار صاحب کا استعفیٰ مانگا جا رہا ہے، وجہ ہے ’اسپیشل انٹینسو ریویژن‘ یعنی ووٹر لسٹوں کی وہ نظرثانی جس کے بارے میں اپوزیشن کا دعویٰ ہے کہ اس کے ذریعے لاکھوں ووٹرز خاموشی سے فہرستوں سے غائب کر دیے گئے۔ گویا جمہوریت کے میز پر بیٹھے لوگوں کی کرسیاں ہی اٹھا لی گئیں، اور کسی کو خبر تک نہ ہوئی۔
گاندھی جینتی کا دن منتخب کیا گیا، جو خود ایک دلچسپ انتخاب ہے۔ عدم تشدد کے پیغام عام کرنے والے سالگرہ پر پولیس نے BNSS کی دفعہ 163 نافذ کر دی، یعنی اجتماع پر پابندی۔ ستم ظریفی ملاحظہ کیجیے کہ مہاتما گاندھی کا دن منانے کے لیے ہی احتجاج پر پابندی لگا دی گئی۔ باوجود اس کے ہزاروں لوگ نکل آئے، میٹرو کے بارہ اسٹیشن بند کرنا پڑے، اور چھ سو کے لگ بھگ ’باغی شہری‘ حراست میں لیے گئے ان میں آپ پارٹی کے سوربھ بھردواج صاحب بھی شامل تھے، جو شاید حراست میں جانے کو اب معمول کی سیاسی سرگرمی سمجھنے لگے ہوں۔
مگر یہ کوئی پہلا موقع نہیں۔ ابھی تین مہینے پہلے، جولائی کی تپتی دہلی میں ’کاکروچ جنتا پارٹی‘ نامی ایک عجیب و غریب نام کی تحریک نے تعلیمی وزیر دهرمیندر پردھان کا سر مانگا تھا، الزام تھا امتحانی پرچہ لیک کا، جس کی زد میں بیس لاکھ طلبہ آئے۔ اس بار سونم وانگچک نامی کارکن نے بیس دن بھوک ہڑتال کی، لاٹھیاں چلیں، آنسو گیس برسی، سوا سو پولیس اہلکار اور ساٹھ مظاہرین زخمی ہوئے۔ تجزیہ کاروں نے اسے مودی دور کی ’سب سے بڑی نوجوان تحریک‘ کا خطاب بھی دے ڈالا۔ گویا میڈل تو مل گیا، مطالبہ پھر بھی ادھورا رہا۔
اب سوال یہ ہے کہ دہلی میں یہ سلسلہ رکتا کیوں نہیں؟ جواب شاید اتنا سادہ ہے کہ جب اداروں پر اعتماد کی عمارت میں ایک دراڑ پڑ جائے، تو وہ دراڑ تعلیم سے انتخابات تک، اور انتخابات سے نہ جانے کہاں کہاں تک پھیلتی چلی جاتی ہے۔ آج امتحانی پرچہ لیک تھا، کل ووٹر لسٹ کا گورکھ دھندہ ہے، پرسوں کچھ اور ہو گا کیونکہ بداعتمادی کی فصل ایک بار بوئی جائے تو وہ خود بخود اگنے لگتی ہے۔
اور یہ تماشا اب محض ’سول سوسائٹی‘ تک محدود نہیں رہا۔ ’انڈیا بلاک‘ نامی اپوزیشن اتحاد نے اسے باقاعدہ گود لے لیا ہے۔ چھ اکتوبر کا پروگرام، یکم نومبر کو بڑی ریلی، گویا ایک مقامی شکایت کو قومی سیاسی بیانیے میں ڈھالنے کا فن بھی اسی جنتر منتر کی گلیوں میں سیکھا جا رہا ہے۔ ادھر مہاراشٹر کے وزیراعلیٰ دیویندر فڑنویس صاحب نے الزامات کو یوں رد کیا جیسے کوئی معمولی ہاؤسنگ سوسائٹی کی شکایت ہو، نہ کہ لاکھوں ووٹرز کے حقِ رائے دہی کا معاملہ۔
تاریخ گواہ ہے کہ ایسی تحریکیں بالآخر دو ہی راستوں پر جاتی ہیں یا حکومت کچھ دے دلا کر جان چھڑا لیتی ہے یا پولیس کی مدد سے وقتی طور پر دبا دی جاتی ہیں، یہاں تک کہ اگلی چنگاری بھڑک اٹھے۔ دہلی کے حکمرانوں کو شاید اب تک یہ سبق نہیں ملا کہ میٹرو اسٹیشن بند کرنے سے سوالات بند نہیں ہوتے، صرف راستہ لمبا ہو جاتا ہے۔
اس تحریک میں نیہا بورا اکیلی نہیں رہیں، اس میں اداکار، سوشل انفلوئنسرز، یوٹیوبرز سبھی شامل ہوچکے ہیں، یہ تحریک صرف نوجوانوں کی نہیں رہی بڑے بھی شامل ہوگئے ہیں، دھروو راٹھی نے انڈین شہریوں کے لیے پیغام جاری کردیا ہے۔
بہرحال یکم نومبر قریب ہے۔ دیکھنا یہ ہے کہ اس بار جنتر منتر پھر وہی پرانی کہانی دہرائے گا، یا کوئی نیا موڑ لے گا۔ ویسے جمہوریت میں امید رکھنا بھی ایک قسم کی ضد ہے، جسے دہلی کے یہ مظاہرین ابھی ترک کرنے کو تیار نہیں۔







