امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے حال ہی میں کہا ہے کہ ایران جنگ ممکنہ طور پر نومبر میں ہونے والے امریکی مڈٹرم انتخابات کے فوراً بعد ختم ہو جائے گی۔ ایران معاہدہ کرنا چاہتا ہے اور مسلسل رابطے کر رہا ہے، تاہم وہ ایسا معاہدہ قبول نہیں کریں گے جو امریکا کے مفاد میں نہ ہو۔لیکن سوال یہ ہے کہ اگر جنگ ختم کرنے کی اتنی خواہش ہے تو پھر نومبر تک انتظار کیوں؟

جنگ شروع کیسے ہوئی؟

موجودہ جنگ کا باقاعدہ آغاز 28 فروری 2026 کو ہوا، جب امریکا اور اسرائیل نے ایران کے خلاف بڑے پیمانے پر فوجی کارروائی شروع کی۔ اسرائیل نے اسے ایران کے خلاف پیشگی حملہ قرار دیا، جب کہ امریکا نے بعد میں 'آپریشن ایپک فیوری' کے نام سے اپنی کارروائی شروع کی۔

امریکی حکام کے مطابق ابتدائی کارروائیوں میں ایرانی فضائی دفاع، میزائل تنصیبات، بحری صلاحیتوں اور کمانڈ مراکز کو نشانہ بنایا گیا۔ ایران نے جواب میں اسرائیل اور خطے میں موجود امریکی مفادات کو میزائلوں اور ڈرونز کے ذریعے نشانہ بنانا شروع کیا۔ یوں چند دنوں میں محدود فوجی کارروائی ایک ایسی جنگ میں بدل گئی جس نے پورے مشرقِ وسطیٰ کو اپنی لپیٹ میں لے لیا۔

پھر جنگ رکی کیوں نہیں؟

اس جنگ میں کئی مرتبہ جنگ بندی یا مذاکرات کی امید پیدا ہوئی، لیکن ہر بار صورتحال دوبارہ بگڑ گئی۔ اپریل میں عارضی جنگ بندی ہوئی، اس کے بعد امریکا اور ایران کے درمیان براہِ راست مذاکرات بھی ہوئے۔

جون میں ایک عبوری سمجھوتے کی کوشش سامنے آئی، لیکن جولائی میں دوبارہ حملے اور سمندری جھڑپیں شروع ہوگئیں۔ امریکی صدر کی جانب سے حملوں میں وقفے کے متعدد اعلانات بھی ہوئے، مگر کچھ ہی عرصے بعد لڑائی دوبارہ شروع ہوگئی۔

یعنی مسئلہ صرف یہ نہیں کہ دونوں ممالک جنگ چاہتے ہیں یا نہیں بلکہ اصل مسئلہ یہ ہے کہ جنگ ختم کرنے کی شرائط پر دونوں میں اتفاق نہیں ہو پا رہا۔

ایران کا مؤقف کیا ہے؟

تہران مسلسل یہ پیغام دے رہا ہے کہ امریکی دباؤ اور دھمکیوں سے ایران کو جھکایا نہیں جا سکتا۔ ایرانی فوجی حکام کا کہنا ہے کہ ماضی کے مقابلے میں ملک کی دفاعی صلاحیتیں کہیں زیادہ جدید اور طاقتور ہیں، جب کہ امریکی دھمکیوں سے ایران خوفزدہ نہیں ہوگا۔

ایران کے لیے جنگ کا مقصد صرف امریکی حملوں کا جواب دینا نہیں بلکہ اپنی بقا، جوہری پروگرام، میزائل صلاحیت اور خطے میں اپنے اثر و رسوخ کو مذاکرات کی میز پر استعمال کرنا بھی ہے۔

اسی لیے تہران کی حکمت عملی بظاہر یہ ہے کہ اتنا دباؤ برقرار رکھا جائے کہ واشنگٹن کو جنگ کے بجائے مذاکرات کی طرف آنا پڑے۔

امریکا کیا چاہتا ہے؟

واشنگٹن کا مؤقف اس کے برعکس ہے۔ ٹرمپ انتظامیہ کا کہنا ہے کہ ایران کو جوہری ہتھیار حاصل کرنے سے روکنا، اس کی میزائل صلاحیت کو محدود کرنا اور خطے میں اس کے مسلح اتحادیوں کی طاقت کم کرنا جنگ کے اہم مقاصد میں شامل ہیں۔

وائٹ ہاؤس نے جنگ کے ابتدائی دنوں میں ایران کی میزائل، بحری اور جوہری صلاحیتوں کو نشانہ بنانے کو اپنی بنیادی ترجیحات قرار دیا تھا۔ لیکن سات ماہ بعد ایک بنیادی سوال اب بھی موجود ہے کہ اگر امریکی فوج ایران کی اتنی بڑی عسکری صلاحیت کو نقصان پہنچا چکی ہے تو جنگ ختم کیوں نہیں ہوئی؟

آبنائے ہرمز

جنگ کا سب سے خطرناک پہلو اس وقت سامنے آیا جب کشیدگی آبنائے ہرمز تک پہنچ گئی۔ یہ وہ سمندری راستہ ہے جہاں سے دنیا کی بڑی مقدار میں تیل گزرتا ہے۔ ایران نے اس راستے پر دباؤ بڑھایا، جس کے نتیجے میں عالمی شپنگ اور تیل کی منڈی شدید متاثر ہوئی۔

ستمبر میں بھی آبنائے ہرمز میں بحری جہازوں پر حملوں اور نئی پابندیوں کی دھمکیوں نے عالمی منڈی کو ہلا دیا۔ تیل کی قیمتیں 100 ڈالر فی بیرل سے اوپر چلی گئیں۔ لیکن معاملہ یہاں بھی نہیں رکا۔

جنگ بحیرۂ احمر تک پہنچ گئی

یمن میں ایران کے اتحادی حوثیوں نے حالیہ دنوں میں بحیرۂ احمر کے اہم ساحلی علاقوں میں پیش قدمی کی ہے۔ حوثیوں نے اسٹریٹجک بندرگاہ موکا اور اس کے بعد باب المندب کے قریب اہم علاقوں پر قبضہ کیا، جس سے دنیا کی ایک اور اہم تجارتی گزرگاہ خطرے میں آ گئی ہے۔

یوں ایران پر دباؤ ڈالنے کی جنگ اب ایک ایسے مرحلے میں داخل ہو چکی ہے جہاں آبنائے ہرمز ایک طرف اور باب المندب دوسری طرف عالمی تیل اور تجارت کے لیے خطرہ بن رہے ہیں۔

اسی دوران سعودی عرب کی ایک اہم آئل پائپ لائن پر ڈرون حملے نے بھی عالمی سپلائی کے خدشات بڑھا دیے ہیں۔ اگر پائپ لائن جلد بحال نہ ہوئی تو عالمی تیل سپلائی میں تقریباً 4 فیصد تک کمی کا خطرہ ظاہر کیا جا رہا ہے۔

نومبر کیوں اہم ہے؟

یہاں سے جنگ اور امریکی سیاست ایک دوسرے سے جڑ جاتی ہیں۔ 3 نومبر 2026 کو امریکا میں مڈٹرم انتخابات ہوں گے۔ ان انتخابات میں امریکی عوام کانگریس کے دونوں ایوانوں کے لیے ووٹ دیں گے۔

اگر ریپبلکن پارٹی کو بڑا نقصان ہوتا ہے تو ٹرمپ کے لیے اپنی پالیسیوں کو آگے بڑھانا مشکل ہوسکتا ہے اور یہی وہ وقت ہے جب ٹرمپ کی مقبولیت بھی دباؤ میں ہے۔

حالیہ پولز میں ٹرمپ کی منظوری کی شرح 30 فیصد کی دہائی میں رہی ہے۔ ایک فائنیشنل ٹائمز سروے میں یہ شرح 33 فیصد جب کہ این بی سی نیوز کے ایک سروے میں 36 فیصد ریکارڈ ہوئی۔ اسی دوران بڑی تعداد میں امریکیوں نے کہا کہ ایران جنگ طویل عرصے تک جاری رہ سکتی ہے۔

سب سے اہم بات یہ ہے کہ جنگ کا اثر اب امریکی جیب پر بھی پڑ رہا ہے۔ ایندھن کی قیمتیں بڑھ رہی ہیں، مہنگائی کا دباؤ برقرار ہے اور امریکی عوام کے لیے جنگ کا مطلب صرف ٹی وی پر دکھائی دینے والے میزائل نہیں بلکہ پیٹرول، ڈیزل، خوراک اور روزمرہ اخراجات بھی ہیں۔

کیا ٹرمپ جنگ کو انتخابات تک کھینچ رہے ہیں؟

یہ وہ سوال ہے جس نے واشنگٹن میں نئی بحث چھیڑ دی ہے۔ ٹرمپ کا کہنا ہے کہ جنگ نومبر کے انتخابات کے فوراً بعد ختم ہو سکتی ہے۔ لیکن ناقدین سوال اٹھا رہے ہیں کہ کیا جنگ کی ٹائمنگ اب امریکی انتخابی سیاست سے بھی متاثر ہو رہی ہے؟

ریپبلکن پارٹی کے اندر بھی کچھ حلقوں کو خدشہ ہے کہ ایران جنگ، مہنگائی اور بڑھتی ہوئی توانائی کی قیمتیں نومبر کے انتخابات میں پارٹی کے لیے نقصان دہ ثابت ہو سکتی ہیں یعنی ٹرمپ کے لیے مسئلہ صرف ایران کو شکست دینا نہیں رہا۔

اب سوال یہ بھی ہے کہ امریکی ووٹر جنگ کے بارے میں کیا فیصلہ کرتا ہے؟ کیا نومبر کے بعد واقعی جنگ ختم ہو جائے گی؟

ضروری نہیں کیونکہ جنگ ختم کرنے کے لیے صرف ٹرمپ کا اعلان کافی نہیں ہوگا۔ ایران کو جوہری پروگرام، پابندیوں، میزائل صلاحیت، آبنائے ہرمز اور مستقبل کے امریکی حملوں کے بارے میں ضمانتیں درکار ہیں۔

امریکا دوسری طرف ایسا معاہدہ چاہتا ہے جو ایران کی فوجی اور جوہری صلاحیتوں کو محدود کرے اور اس دوران خطے میں ایران کے اتحادی، خصوصاً حوثی، ایک الگ محاذ کھول چکے ہیں۔ اس لیے نومبر کے بعد جنگ بندی کا امکان ضرور بڑھ سکتا ہے، لیکن فوری اور مکمل امن کی ضمانت نہیں۔

فلحال یوں ہے کہ ٹرمپ جنگ ختم کرنے کی بات کر رہے ہیں، ایران دھمکیوں سے نہ ڈرنے کا اعلان کر رہا ہے، اسرائیل ایران کی صلاحیتوں کو ختم کرنے پر زور دے رہا ہے، جب کہ خلیجی ممالک اپنے تیل اور تجارتی راستوں کے تحفظ کے لیے نئے راستے تلاش کر رہے ہیں اور دنیا دیکھ رہی ہے کہ کیا نومبر کا امریکی ووٹ اس جنگ کا رخ بدل دے گا؟