عالمی خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق سعودی تیل کے خریداروں اور تاجروں نے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ سعودی تیل کی سپلائی میں مزید کمی عالمی منڈی میں پہلے سے جاری سپلائی بحران کو مزید سنگین کرسکتی ہے۔

رائٹرز کے مطابق ڈرون حملوں کے بعد سعودی عرب نے جمعے کو اپنی بڑی ایسٹ ویسٹ آئل پائپ لائن بند کردی تھی، تاہم ریاض نے تاحال نقصان کی مکمل تفصیلات یا پائپ لائن کی بحالی کے متوقع وقت سے متعلق واضح معلومات فراہم نہیں کیں۔

پائپ لائن کی بحالی میں کتنا وقت لگ سکتا ہے؟

عالمی خبررساں ادارے سے بات کرنے والے ذرائع نے پائپ لائن کی بحالی کے حوالے سے مختلف اندازے دیے ہیں۔ ایک ذریعے کے مطابق نقصان کی مرمت میں پانچ سے چھ ہفتے تک لگ سکتے ہیں، جب کہ دوسرے ذریعے نے کہا کہ پائپ لائن اس سے پہلے بھی بحال ہوسکتی ہے اور مرمت کے دوران جزوی طور پر تیل کی ترسیل دوبارہ شروع کیے جانے کا امکان ہے۔

سعودی حکومت کے میڈیا دفتر اور وزارتِ توانائی نے رائٹرز کی جانب سے تبصرے کے لیے بھیجی گئی درخواست کا فوری جواب نہیں دیا۔

سعودی عرب کے پاس کتنے دن کا ذخیرہ موجود ہے؟

گزشتہ چھ ماہ کے دوران جزیرہ نما عرب کے صحرا سے گزرنے والی یہ پائپ لائن سعودی عرب کو آبنائے ہرمز کی جنگی صورتحال اور پڑوسی ممالک کی تیل برآمدات میں رکاوٹوں کے اثرات سے بڑی حد تک بچاتی رہی ہے۔

دنیا کے سب سے بڑے تیل برآمد کنندہ سعودی عرب نے اس پائپ لائن کے ذریعے روزانہ تقریباً 40 لاکھ بیرل تیل بحیرۂ احمر کی بندرگاہ ینبع منتقل کیا، جو عالمی تیل سپلائی کا تقریباً 4 فیصد بنتا ہے۔

تاہم پائپ لائن بند ہونے کے بعد ینبع میں موجود ذخائر سے صرف پانچ سے سات دن تک برآمدات جاری رکھنے کی گنجائش رہ گئی ہے۔

ایک اور ذریعے کے مطابق سعودی عرب کے پاس مصر کی بحیرۂ احمر کی بندرگاہ عین سخنہ اور بحیرۂ روم کی بندرگاہ سیدی کریر سے بھی چند روز تک صارفین کو تیل فراہم کرنے کے لیے ذخائر موجود ہیں۔

صنعتی اندازوں کے مطابق ینبع میں تقریباً 3 کروڑ 50 لاکھ بیرل تیل ذخیرہ کرنے کی گنجائش ہے، جب کہ عین سخنہ اور سیدی کریر کی گنجائش بالترتیب 1 کروڑ 80 لاکھ اور 2 کروڑ بیرل ہے۔ تاہم یہ ذخائر مکمل طور پر بھرے ہوئے نہیں اور پائپ لائن بحال نہ ہونے کی صورت میں بالآخر ختم ہوجائیں گے۔

سعودی تیل کی پیداوار پہلے ہی کم ہوچکی

عالمی توانائی ایجنسی (آئی ای اے) کے مطابق آبنائے ہرمز اور بحیرۂ احمر کے راستوں سے ترسیل میں کمی کے باعث سعودی عرب کی تیل سپلائی اگست میں تین دہائیوں سے زائد عرصے کی کم ترین سطح پر پہنچ گئی۔

آئی ای اے کے مطابق رواں سال عالمی تیل سپلائی میں 57 لاکھ بیرل یومیہ یا تقریباً 6 فیصد کمی متوقع ہے۔

دوسری جانب یمن میں ایران کے حمایت یافتہ حوثی جنگجو، جو سعودی تیل کی ترسیل کو نشانہ بنانے کی دھمکیاں دے چکے ہیں، جمعے کو بحیرۂ احمر کے دہانے پر واقع ایک اہم جزیرے پر بھی قبضہ کرچکے ہیں۔

جنگ سے قبل مشرق وسطیٰ سے روزانہ تقریباً 2 کروڑ 20 لاکھ بیرل تیل فراہم کیا جاتا تھا، تاہم صنعتی ذرائع کے مطابق آبنائے ہرمز سے گزرنے والی تیل کی ترسیل اب کم ہوکر تقریباً 60 لاکھ سے 90 لاکھ بیرل یومیہ رہ گئی ہے۔

سعودی عرب نے گزشتہ ہفتے اوپیک کو بتایا تھا کہ اگست میں اس کی تیل پیداوار کم ہوکر صرف 62 لاکھ بیرل یومیہ رہ گئی، جو جنگ شروع ہونے سے قبل فروری میں ایک کروڑ 90 لاکھ بیرل یومیہ تھی۔