چینی وزارتِ خارجہ کے مطابق یہ اتفاقِ رائے اس تنازع کے حل کے لیے سامنے آیا ہے، جو گزشتہ سال اکتوبر میں دونوں ممالک کے درمیان شروع ہوا تھا۔

وزارتِ خارجہ کی ترجمان ماؤ ننگ نے پریس بریفنگ کے دوران بتایا کہ چین میں ہونے والی ملاقاتوں میں دونوں ممالک نے اس بات پر بھی اتفاق کیا کہ وہ ایسے اقدامات سے گریز کریں گے جن سے صورتحال مزید خراب یا پیچیدہ ہو سکتی ہے۔

ماؤ ننگ نے مزید کہا کہ چین دونوں ممالک کے ساتھ قریبی رابطے جاری رکھے گا اور مذاکرات کے لیے اپنا پلیٹ فارم فراہم کرتا رہے گا۔

چینی وزارتِ خارجہ کے ترجمان کی جانب سے جاری کردہ بیان کے مطابق مذاکرات میں تینوں ممالک کے وفود نے شرکت کی، جن میں خارجہ امور، دفاع اور سیکیورٹی سے متعلق اعلیٰ حکام شامل تھے۔

اس دوران پاکستان اور افغانستان نے اقوام متحدہ کے چارٹر اور 'پرامن بقائے باہمی کے پانچ اصولوں' کی پاسداری کے عزم کا اعادہ کیا۔

دونوں ممالک نے اس بات پر بھی اتفاق کیا کہ باہمی اختلافات کو جلد از جلد حل کیا جائے گا اور ایسے اقدامات سے گریز کیا جائے گا جو صورتحال کو مزید خراب یا پیچیدہ بنا سکتے ہوں۔

مذاکرات کے دوران پاکستان اور افغانستان نے میزبان ملک چین کی کوششوں کو سراہتے ہوئے اس کی ثالثی، منصفانہ مؤقف اور مؤثر کردار پر شکریہ ادا کیا۔

تینوں فریقین نے اس بات پر بھی اتفاق کیا کہ افغانستان اور پاکستان کے درمیان تعلقات میں موجود مسائل کے حل کے لیے ایک جامع منصوبہ ترتیب دیا جائے گا، جب کہ اہم اور ترجیحی امور کی نشاندہی بھی کی گئی۔

بیان میں کہا گیا کہ اُرمچی عمل ایک بامعنی پیش رفت ہے اور مستقبل میں بھی رابطوں اور مذاکرات کا سلسلہ جاری رکھا جائے گا، جو خطے میں امن اور استحکام کے لیے ایک مثبت قدم تصور کیا جا رہا ہے۔