برطانوی ہائی کورٹ کے تازہ فیصلے کے مطابق یہ رقم 28 اگست شام 4 بجے تک ایسوسی ایٹڈ نیوزپیپرز لیمیٹڈ (اے این ایل) کو ادا کرنا ہوگی، جو ڈیلی میل، میل آن سنڈے اور میل آنلائن کا پبلشر ہے۔ تاہم یہ حتمی رقم نہیں، کیس کے مکمل قانونی اخراجات اس سے کہیں زیادہ ہوسکتے ہیں۔

لیکن آخر یہ کیس تھا کیا؟ پرنس ہیری اور دیگر معروف شخصیات نے ڈیلی میل کے خلاف کیا الزامات عائد کیے تھے، عدالت نے انہیں کیوں مسترد کیا اور اب ان کے پاس کیا راستہ باقی ہے؟

کیس دراصل کیا تھا؟

یہ مقدمہ ایسوسی ایٹڈ نیوزپیپرز لیمیٹڈ کے خلاف تھا، جس میں پرنس ہیری سمیت سات دعویداروں نے الزام لگایا کہ ڈیلی میل اور اس سے وابستہ اشاعتوں نے برسوں تک ان کی نجی معلومات غیر قانونی طریقوں سے حاصل کیں۔

دعویٰ کیا گیا کہ 1997 سے 2015 کے دوران مختلف خبروں کے لیے معلومات حاصل کرنے میں مبینہ طور پر فون یا وائس میلز میں غیر قانونی مداخلت، گھروں اور گاڑیوں کی نگرانی، نجی معلومات حاصل کرنے کے لیے دھوکا دہی یا 'بلاگنگ'، نجی تفتیش کاروں کا استعمال اور بعض صورتوں میں غیر قانونی ادائیگیوں جیسے طریقے استعمال کیے گئے۔

اے این ایل نے ان الزامات کی سختی سے تردید کی اور مؤقف اختیار کیا کہ اس کی صحافت قانونی ذرائع اور جائز طریقوں سے کی گئی تھی۔

پرنس ہیری کے ساتھ کون کون تھا؟

یہ صرف پرنس ہیری کا مقدمہ نہیں تھا۔ سات دعویداروں میں سر ایلٹن جان، ان کے شوہر ڈیوڈ فرنِش، اداکارہ لز ہرلی، اداکارہ سَیڈی فراسٹ، سابق رکن پارلیمنٹ سائمن ہیوز اور بیرونس ڈورین لارنس بھی شامل تھیں۔

بیرونس لارنس برطانیہ میں نسلی انصاف کی معروف کارکن ہیں اور مقتول نوجوان اسٹیفن لارنس کی والدہ ہیں۔

مزید پڑھیں: برطانیہ کے شہزادے ہیری پر ہراسانی کے الزامات کیوں لگائے جا رہے ہیں؟

مقدمہ کب شروع ہوا؟

یہ قانونی جنگ 2022 میں شروع ہوئی۔ دعویداروں نے اے این ایل کے خلاف اپنے دعوے دائر کیے اور مؤقف اختیار کیا کہ اخبارات کے لیے ان کی نجی زندگیوں سے متعلق معلومات غیر قانونی طور پر حاصل کی جاتی رہی تھیں۔

مقدمہ بالآخر 2026 میں ہائی کورٹ تک پہنچا، جہاں اس کی باقاعدہ سماعت 19 جنوری سے 31 مارچ 2026 تک جاری رہی۔

یہ سماعت مجموعی طور پر 46 دن پر محیط تھی اور عدالت نے درجنوں گواہوں کے بیانات سنے، جن میں پرنس ہیری سمیت خود دعویدار اور اسوسی ایٹڈ نیوزپیپرز کے موجودہ و سابق صحافی اور عہدیدار شامل تھے۔

7 جولائی کو عدالت نے کیا فیصلہ دیا؟

7 جولائی 2026 کو جسٹس میتھیو نِکلن نے 436 صفحات پر مشتمل فیصلہ سنایا اور ساتوں دعویداروں کے تمام دعوے مسترد کردیے۔

عدالت کا بنیادی مؤقف یہ تھا کہ دعویدار اپنے الزامات کو مطلوبہ شواہد سے ثابت نہیں کرسکے۔ یعنی صرف یہ حقیقت کہ کسی خبر میں کسی شخص کی نجی معلومات موجود تھیں، اس بنیاد پر یہ نتیجہ اخذ نہیں کیا جاسکتا کہ معلومات لازماً غیر قانونی طریقے سے حاصل کی گئی تھیں۔

عدالت نے یہ بھی کہا کہ جہاں کسی خبر کے لیے معلومات حاصل ہونے کا کوئی قانونی اور قابلِ اعتبار ذریعہ موجود ہوسکتا ہے، وہاں صرف شبہ یا عمومی اندازے کی بنیاد پر غیر قانونی معلومات حاصل کرنے کا نتیجہ اخذ نہیں کیا جاسکتا۔

یہ بھی پڑھیں: ٹائم 100 سمٹ: ’میں ستارہ ہوں‘ برطانوی شہزادی کا پیغام

عدالت نے مزید کہا کہ دعویداروں کی جانب سے سنگین الزامات عائد کیے گئے لیکن ان کے لیے مطلوبہ ثبوت پیش نہیں کیے گئے۔

پرنس ہیری نے فیصلے کو کیا کہا؟

فیصلے کے بعد پرنس ہیری اور بیرونس ڈورین لارنس نے مشترکہ بیان میں عدالت کے فیصلے کو 'مکمل اور واضح وائٹ واش' قرار دیا اور کہا کہ وہ انصاف اور احتساب کے حصول کے لیے عدالت آئے تھے لیکن انہیں دونوں نہیں مل سکے۔

دوسری جانب اے این ایل نے فیصلے کو اپنے صحافیوں اور برطانوی آزاد صحافت کے لیے بڑی کامیابی قرار دیا۔

اب 9.54 ملین پاؤنڈ کیوں؟

کیس ہارنے کے بعد اصل تنازع اب قانونی اخراجات پر ہے۔ اے این ایل نے عدالت کو بتایا کہ اس مقدمے کا دفاع کرتے ہوئے اس کے قانونی اخراجات تقریباً 34.5 ملین پاؤنڈ تک پہنچ چکے ہیں۔ عدالت نے اس رقم کو غیر معمولی طور پر زیادہ قرار دیا اور کہا کہ 34 ملین پاؤنڈ سے زائد کا دعویٰ بظاہر بہت زیادہ ہے۔

تاہم عدالت نے فوری طور پر یہ فیصلہ نہیں کیا کہ دعویداروں کو آخرکار کتنی رقم ادا کرنا ہوگی۔ اس کے بجائے جمعہ کو عدالت نے ابتدائی ادائیگی کے طور پر 9,544,355 پاؤنڈ ادا کرنے کا حکم دیا ہے۔

کیا 9.54 ملین پاؤنڈ ہی آخری بل ہے؟

نہیں۔ یہ صرف انٹرسٹم پیمنٹ ہے۔ عدالت نے اے این ایل کے اخراجات کو انڈیمنٹی بیسس (ہرجانے کی بنیاد) پر جانچنے کی اجازت دی ہے، جو عام طریقے کے مقابلے میں پبلشر کے لیے زیادہ سازگار ہے۔

اس کا مطلب یہ ہے کہ دعویداروں کو مستقبل میں اے این ایل کے مزید قانونی اخراجات ادا کرنے پڑسکتے ہیں، تاہم حتمی رقم ایک الگ تفصیلی کاسٹس اسیسمنٹ (اخراجات کا تخمینہ) کے ذریعے طے ہوگی۔

لازمی پڑھیں: برطانوی شہزادہ ہیری عدالت میں آبدیدہ ہو گئے، وجہ کیا بنی؟

اے این ایل کے مطابق اس کے اخراجات 34.5 ملین پاؤنڈ تک پہنچ چکے ہیں، لیکن عدالت نے واضح کیا ہے کہ اس پوری رقم کی وصولی خودکار طور پر نہیں ہوگی اور غیر معقول اخراجات وصول نہیں کیے جاسکتے۔

پھر کتنی رقم دینی پڑسکتی ہے؟

دعویداروں کے پاس تقریباً 16.2 ملین پاؤنڈ تک قانونی اخراجات کی انشورنس موجود ہے۔ اگر اے این ایل کے تمام قابلِ وصول اخراجات اس رقم سے کہیں زیادہ نکلے تو دعویداروں کو اپنی جیب سے اضافی رقم ادا کرنا پڑسکتی ہے۔

خیال رہے کہ ابھی یہ کہنا قبل از وقت ہے کہ حتمی رقم 34.5 ملین پاؤنڈ ہوگی یا اس سے کم۔ عدالت نے خود بھی اے این ایل کے مجموعی دعوے کو انتہائی زیادہ قرار دیا ہے۔

اب آگے کیا ہوگا؟

پرنس ہیری اور دیگر چھ دعویداروں کے پاس اب بنیادی طور پر دو اہم راستے ہیں۔

پہلا یہ کہ انہیں 28 اگست تک عدالت کے حکم کے مطابق 9.54 ملین پاؤنڈ کی ابتدائی رقم ادا کرنا ہوگی۔

دوسرا یہ کہ وہ 7 جولائی کے بنیادی فیصلے کے خلاف اپیل کی اجازت حاصل کرنے کی کوشش کرسکتے ہیں۔ عدالت نے اس کے لیے 2 اکتوبر 2026 تک کا وقت دیا ہے۔

اگر اپیل کی اجازت مل جاتی ہے تو کیس کا قانونی سفر آگے بڑھ سکتا ہے۔ تاہم صرف اپیل کی درخواست دائر ہوجانے سے 7 جولائی کا فیصلہ خود بخود ختم نہیں ہوگا۔

دوسری طرف اے این ایل کے قانونی اخراجات کا حتمی حساب بھی ابھی باقی ہے، اس لیے جمعہ کا 9.54 ملین پاؤنڈ کا حکم اس قانونی جنگ کا آخری مالی فیصلہ نہیں ہے۔

پرنس ہیری کے لیے اس کیس کی اہمیت کیا ہے؟

یہ شکست پرنس ہیری کی برطانوی ٹیبلوئڈ میڈیا کے خلاف قانونی جنگ میں ایک بڑا دھچکا ہے۔ وہ گزشتہ برسوں میں برطانوی اخبارات کے خلاف متعدد مقدمات لڑ چکے ہیں اور اپنے خلاف میڈیا کی مداخلت کو اپنی زندگی کے اہم مسائل میں شمار کرتے رہے ہیں۔

لیکن 'ڈیلی میل' کے خلاف یہ مقدمہ اس لیے بھی اہم تھا کہ اس میں غیر قانونی معلومات حاصل کرنے کے انتہائی سنگین الزامات عائد کیے گئے تھے۔

اب عدالت نے ان الزامات کو ثابت نہ ہونے کی بنیاد پر مسترد کردیا ہے، جب کہ مالی طور پر بھی پرنس ہیری اور ان کے ساتھی دعویداروں کو بھاری قانونی اخراجات کا سامنا ہے۔

یوں اس مقدمے کا فیصلہ ابھی مکمل طور پر ختم نہیں ہوا، 9.54 ملین پاؤنڈ کی ابتدائی ادائیگی کا حکم آچکا ہے، حتمی قانونی بل ابھی طے ہونا باقی ہے اور 2 اکتوبر تک اپیل کا راستہ بھی کھلا ہے۔