ایران کے خلاف جنگ شروع ہونے کے بعد سعودی عرب کو آبنائے ہرمز کی بندش کے باوجود مشرقی اور مغربی ساحلوں کو ملانے والی تیل کی پائپ لائن کے ذریعے تیل برآمد کرنے کا فائدہ حاصل تھا۔ تاہم، حوثیوں کے بڑھتے ہوئے حملوں نے اس متبادل راستے اور ملک کے دیگر اہم تنصیبی مراکز کی سلامتی کے بارے میں بھی خدشات بڑھا دیے ہیں۔
رپورٹ کے مطابق ہفتے کے روز سعودی دارالحکومت کے بین الاقوامی ہوائی اڈے پر کم از کم ایک حوثی میزائل گرا، جس کے نتیجے میں کم از کم 12 افراد ہلاک اور سیکڑوں زخمی ہوئے۔ یہ ایران جنگ سے منسلک تنازع شروع ہونے کے بعد سعودی عرب یا اس کے خلیجی اتحادیوں پر ہونے والے مہلک ترین انفرادی حملوں میں سے ایک تھا۔
حکام کے مطابق زخمیوں میں ایک 28 سالہ مصری فضائی میزبان بھی شامل تھیں، جو دھماکے میں بازو کٹ جانے کے بعد زیادہ خون بہنے کے باعث دم توڑ گئیں۔ حملے سے ہوائی اڈے کے دو مسافر بردار حصوں کو نقصان پہنچا اور عمارتوں کی چھتوں کے بعض حصے بھی گر گئے۔
حکام نے اتوار کو ہوائی اڈے پر مزید حملوں کی اطلاع دی۔ ان کے مطابق ایک پروجیکٹائل ٹرمینل 4 میں آگ لگنے کا سبب بنا، جس سے مزید افراد زخمی ہوئے۔ سکیورٹی صورتِ حال کے باعث ہوائی اڈے کو فضائی آمدورفت کے لیے بند کر دیا گیا۔
سعودی ولی عہد محمد بن سلمان کا ویژن 2030 منصوبہ معیشت کا انحصار تیل سے کم کرکے سیاحت، تفریح، بنیادی ڈھانچے اور دیگر شعبوں کو فروغ دینے پر مبنی ہے۔ اس کا ایک اہم مقصد نجی شعبے میں روزگار کے مواقع پیدا کرنا اور غیر ملکی سرمایہ کاری کو راغب کرنا بھی ہے۔
سعودی عرب میں بڑھتی ہوئی بدامنی ان منصوبوں کے لیے مشکلات پیدا کر سکتی ہے۔ سیاحت اور بین الاقوامی سرمایہ کاری کا انحصار بڑی حد تک اس تاثر پر بھی ہے کہ ملک محفوظ اور کاروبار کے لیے مستحکم ہے۔
رپورٹ کے مطابق حوثیوں کے حملوں میں ہوائی اڈوں اور توانائی کی تنصیبات کو نشانہ بنایا گیا ہے، جن میں مشرقی اور مغربی ساحلوں کو ملانے والی اہم تیل کی پائپ لائن اور آئل ریفائنریز بھی شامل ہیں۔
ماہِ رواں کے اختتام پر ہونے والی ایک بڑی بین الاقوامی سرمایہ کاری کانفرنس کے انعقاد کے بارے میں بھی خدشات سامنے آئے ہیں۔
ایران جنگ کے اخراجات پہلے ہی سعودی عرب کے بجٹ خسارے میں اضافے کا سبب بن چکے ہیں، جب کہ مزید سکیورٹی اخراجات اور توانائی کی تنصیبات کو پہنچنے والے نقصانات معیشت پر اضافی دباؤ ڈال سکتے ہیں۔
سعودی عرب عالمی توانائی منڈی میں اہم مقام رکھتا ہے۔ ملک میں عدم استحکام یا تیل کی فراہمی میں رکاوٹ عالمی منڈی میں قیمتوں اور توانائی کی رسد کو متاثر کر سکتی ہے، جس کے اثرات تیل درآمد کرنے والے ممالک تک پہنچ سکتے ہیں۔
سعودی عرب عالمی ٹیکنالوجی اور مصنوعی ذہانت کے منصوبوں میں بھی بڑے پیمانے پر سرمایہ کاری کرتا ہے۔ اس کے علاوہ امریکا کو فوجی اڈوں اور فضائی حدود تک رسائی سمیت اہم دفاعی سہولتیں فراہم کرتا ہے۔ اس لیے سعودی عرب میں تنازع کی شدت علاقائی سلامتی کے ساتھ عالمی طاقتوں کے مفادات کو بھی متاثر کر سکتی ہے۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ہفتے کے اختتام پر صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ امریکا حوثیوں کے ساتھ رابطے میں ہے، تاہم واشنگٹن سعودی عرب کی جانب سے حوثیوں کے خلاف حملوں میں شامل ہونے پر بھی غور کر سکتا ہے۔ ٹرمپ نے حوثیوں کی کارروائی کو ’بہت برا‘ قرار دیا۔
دوسری جانب حوثی فوجی ترجمان نے اتوار کو دوبارہ کہا کہ سعودی ہوائی اڈے ان کے حملوں کا ہدف ہیں۔ سعودی حکام کے مطابق مزید حملوں کو روکنے کے لیے استعمال ہونے والے انٹرسیپٹر میزائلوں کے ذخائر کم ہو رہے ہیں۔
گزشتہ جمعرات کو روکے گئے ایک بیلسٹک میزائل کا ملبہ ایک کنڈرگارٹن اور طبی کلینکس پر مشتمل عمارت پر گرا۔ حکام نے مالیاتی ضلع میں کام کرنے والے افراد، بعض بین الاقوامی اسکولوں کے طلبہ اور سفارت کاروں کو محفوظ مقامات پر منتقل ہونے یا وہیں رہنے کی ہدایات بھی دیں۔
رپورٹ کے مطابق سعودی ولی عہد محمد بن سلمان سخت سکیورٹی انتظامات کے تحت مختلف محلات کے درمیان نقل و حرکت کر رہے ہیں اور ان کے لیے محفوظ بنکرز بھی موجود ہیں۔







