ہفتے کے روز جاری کیے گئے بیان کے مطابق امریکی وزیرِ خارجہ مارکو روبیو نے حمیدہ سلیمانی افشار اور ان کی بیٹی کا گرین کارڈ منسوخ کر دیا ہے۔
مارکو روبیو نے سوشل میڈیا پر اپنے بیان میں کہا کہ دونوں خواتین اس وقت امریکی امیگریشن اینڈ کسٹمز انفورسمنٹ (آئی سی ای) کی تحویل میں ہیں اور انہیں ملک بدر کرنے کے عمل کا سامنا ہے۔
BREAKING: US authorities have arrested the niece and grandniece of Iran’s late General Soleimani in the US after US Secretary of State Marco Rubio ended their permanent residency status, Reuters cites the US State Department as saying.
— Al Jazeera English (@AJEnglish) April 4, 2026
🔴 LIVE updates: https://t.co/jKUJUUvrak pic.twitter.com/cEUqe6n8Gy
واضح رہے کہ ایران کے طاقتور فوجی کمانڈروں میں شمار ہونے والے جنرل قاسم سلیمانی 2020 میں عراق میں ایک امریکی فضائی حملے میں شہید ہو گئے تھے، یہ کارروائی اُس وقت کے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے حکم پر کی گئی تھی۔
امریکی وزارتِ خارجہ نے اپنے بیان میں الزام عائد کیا کہ حمیدہ سلیمانی افشار ایران کی آمرانہ اور دہشت گرد حکومت کی کھل کر حمایت کرتی ہیں۔
بیان میں مزید کہا گیا کہ انہوں نے اپنے سوشل میڈیا اکاؤنٹس کے ذریعے ایرانی حکومت کا پروپیگنڈا بھی پھیلایا۔
وزارتِ خارجہ کے مطابق سلیمانی افشار کے شوہر پر بھی امریکا میں داخلے پر پابندی عائد کر دی گئی ہے، تاہم بیان میں نہ ان کی بیٹی اور نہ ہی شوہر کا نام ظاہر کیا گیا۔
مارکو روبیو نے اپنے ایک اور بیان میں کہا کہ سلیمانی افشار اور ان کی بیٹی گرین کارڈ ہولڈرز تھیں اور امریکا میں پُرتعیش زندگی گزار رہی تھیں۔






