پولیس حکام کے مطابق مبینہ حملہ آور نویں جماعت کا 14 سالہ طالب علم تھا، جو واقعے کے بعد مردہ پایا گیا۔

عینی شاہدین کے مطابق حملہ آور ایک کمرے سے دوسرے کمرے میں جاتا رہا اور اساتذہ کو نشانہ بناتا رہا۔ واقعے کے بعد اسکول میں شدید خوف و ہراس پھیل گیا، جب کہ طلبہ اور عملہ جان بچانے کے لیے بھاگتے ہوئے نظر آئے۔

ہنگامی امدادی ٹیمیں فوری طور پر جائے وقوعہ پر پہنچ گئیں اور زخمیوں کو ابتدائی طبی امداد دینے کے بعد اسپتال منتقل کر دیا گیا۔

حکام نے عوام سے اپیل کی ہے کہ وہ نونتھابوری میں واقع ڈیبسرین اسکول کے اطراف کے علاقے سے دور رہیں۔

واضح رہے کہ ڈیبسرین اسکول کی شاخیں پورے تھائی لینڈ میں موجود ہیں اور یہ تعلیمی معیار کے حوالے سے ملک کے ممتاز اداروں میں شمار ہوتا ہے۔

تھائی لینڈ کے وزیرِ صحت کے مطابق حملہ آور نے اسکول جانے سے قبل اپنے دادا اور دادی کو بھی ان کے گھر میں گولی مار کر قتل کیا تھا۔ پولیس کا کہنا ہے کہ حملے میں استعمال ہونے والی 9 ملی میٹر پستول حملہ آور کے دادا کی تھی، جو پیشے کے اعتبار سے استاد تھے۔

ابتدائی طور پر ہلاکتوں کی تعداد کے حوالے سے مختلف اعداد و شمار سامنے آئے، تاہم وزیرِ صحت نے تصدیق کی ہے کہ اسکول میں پانچ اساتذہ ہلاک ہوئے، جب کہ حملہ آور، اس کے دادا اور دادی کی ہلاکتوں کے بعد مجموعی تعداد آٹھ ہو گئی ہے۔

یاد رہے کہ یہ واقعہ رواں سال فروری میں جنوبی تھائی لینڈ کے ایک اسکول میں ہونے والی فائرنگ کے بعد پیش آیا ہے، جس نے ملک میں اسلحے کی آسان دستیابی سے متعلق خدشات کو ایک بار پھر اجاگر کر دیا ہے۔

تھائی لینڈ کے وزیرِ اعظم انوتن چارنویراکل نے واقعے پر گہرے دکھ کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ یہ انتہائی افسوسناک سانحہ ہے، ایسا ہرگز نہیں ہونا چاہیے تھا۔ انہوں نے کہا کہ حکومت متاثرہ خاندانوں کے غم میں برابر کی شریک ہے۔

دوسری جانب اپوزیشن جماعت پیپلز پارٹی کے رہنما نتھافونگ روئنگپنیاؤت نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ ملک میں اسلحہ کنٹرول کے قوانین کا ازسرِ نو جائزہ لیا جائے تاکہ تعلیمی اداروں میں ایسے واقعات کی روک تھام ممکن بنائی جا سکے۔