ترک وزیر انصاف نے کہا کہ وزارتِ انصاف نے وزارتِ داخلہ سے نیتن یاہو اور اسرائیلی شہری افیک موسکووچ کے خلاف انٹرپول ریڈ نوٹس جاری کرنے کی درخواست کی ہے، تاکہ انہیں بین الاقوامی سطح پر تلاش کیا جاسکے۔
ترکیہ کے مطابق یہ کارروائی مئی 2026 میں غزہ کی جانب جانے والے گلوبل صمود فلوٹیلا کو بین الاقوامی پانیوں میں روکنے کے معاملے سے متعلق مقدمے کا حصہ ہے۔
ترک حکام نے نیتن یاہو اور موسکووچ کے خلاف نسل کشی، انسانیت کے خلاف جرائم، تشدد، غیر قانونی حراست، املاک کی تباہی اور دیگر الزامات عائد کیے ہیں۔ اسرائیل ان الزامات کی تردید کرتا ہے۔
ترک حکام کے مطابق گلوبل صمود فلوٹیلا میں تقریباً 430 کارکن شامل تھے، جنہیں اسرائیلی فورسز نے بحیرۂ روم میں روک کر حراست میں لیا اور بعد ازاں اسرائیل سے بے دخل کردیا گیا۔ بعض کارکنوں نے حراست کے دوران جسمانی اور جنسی تشدد کے الزامات بھی عائد کیے تھے۔
ریڈ نوٹس کیا ہے؟
انٹرپول ریڈ نوٹس کسی شخص کو دنیا بھر میں تلاش کرنے اور حوالگی کی کارروائی تک عارضی طور پر گرفتار کرنے کی درخواست ہوتی ہے۔ تاہم ریڈ نوٹس خود گرفتاری کا بین الاقوامی وارنٹ نہیں ہوتا، جبکہ انٹرپول رکن ممالک کی جانب سے موصول ہونے والی درخواستوں کا جائزہ لینے کے بعد فیصلہ کرتا ہے۔
دوسری جانب اسرائیلی وزیراعظم کے دفتر نے ترکیہ کے اقدام کو مسترد کرتے ہوئے ترک صدر رجب طیب اردوان پر تنقید کی اور کہا کہ نیتن یاہو کو دھمکانے کی کوشش کامیاب نہیں ہوگی۔
اسرائیل اور ترکیہ کے درمیان تعلقات پہلے ہی شدید کشیدگی کا شکار ہیں۔ دونوں ممالک کے درمیان غزہ جنگ کے معاملے پر سخت اختلافات کے علاوہ شام میں ترک اور اسرائیلی سرگرمیوں کے حوالے سے بھی حالیہ دنوں میں کشیدگی میں اضافہ ہوا ہے۔
ترکیہ نے اسرائیلی کارروائیوں کے خلاف بین الاقوامی قانونی اقدامات کی حمایت کی ہے، جب کہ اسرائیل ترکیہ پر خطے میں عدم استحکام پیدا کرنے کے الزامات عائد کرتا رہا ہے۔







