لیکن ابر کاواس کون ہیں؟ ان کا تعلق کہاں سے ہے؟ وہ امریکی شہری کیسے بنیں؟ اور ایک پہلی بار انتخاب لڑنے والی کمیونٹی آرگنائزر نے نیویارک کی سیاست میں یہ کامیابی کیسے حاصل کی؟

ابر کاواس کون ہیں اور ان کا تعلق کہاں سے ہے؟

ابر کاواس ایک فلسطینی نژاد امریکی خاتون اور سماجی کارکن ہیں۔ وہ نیویارک کے علاقے بروکلین میں پیدا ہوئیں اور وہیں پرورش پائی۔ ان کے والدین فلسطینی ہیں، جو 1990 کی دہائی میں امریکا منتقل ہوئے تھے۔

اس طرح ابر کاواس کسی دوسرے ملک سے امریکا آکر شہریت حاصل کرنے والی تارکِ وطن نہیں، بلکہ امریکا میں پیدا ہونے کی وجہ سے امریکی شہری ہیں۔ امریکی آئین کی چودھویں ترمیم کے تحت امریکا میں پیدا ہونے والے بیشتر افراد کو پیدائشی شہریت حاصل ہوتی ہے۔

ان کی زندگی کا ایک اہم واقعہ ان کے والد کی گرفتاری اور امریکا سے ملک بدری ہے۔ جب ابر ہائی اسکول میں زیر تعلیم تھیں تو امریکی امیگریشن حکام نے ان کے والد کو حراست میں لے کر اردن ڈی پورٹ کردیا تھا۔

ابر کاواس نے اس واقعے کو اپنی زندگی کے مشکل ترین تجربات میں شمار کیا ہے۔ ان کے مطابق والد کی ملک بدری کے بعد خاندان کو مالی مشکلات کا سامنا کرنا پڑا اور ان کے بہن بھائیوں کو بھی گھر کے اخراجات میں مدد کے لیے کام کرنا پڑا۔

یہی تجربہ بعد میں ان کی سیاسی جدوجہد اور امیگریشن پالیسی سے متعلق مؤقف کی بنیاد بنا۔

سیاست میں آنے سے پہلے کیا کرتی تھیں؟

ابر کاواس نے انتخابی سیاست میں آنے سے پہلے 15 سال سے زائد عرصہ کمیونٹی آرگنائزر کے طور پر کام کیا۔

ان کی سرگرمیوں کا بنیادی مرکز مزدوروں کے حقوق، تارکین وطن کے مسائل اور فلسطینیوں کے حقوق تھے۔ وہ نیویارک میں عرب اور مسلمان کمیونٹیز کے ساتھ بھی کام کرتی رہی ہیں۔

وہ نیویارک میں فلسطینی حقوق کے لیے سرگرم تنظیمی مہمات کا حصہ رہیں۔

ان کی ایک نمایاں کوشش ’’Not On Our Dime‘‘ مہم تھی، جس کا مقصد نیویارک میں رجسٹرڈ غیر منافع بخش اداروں کی جانب سے مقبوضہ فلسطینی علاقوں میں اسرائیلی آبادکاری کی حمایت کرنے والے گروہوں کو مالی معاونت فراہم کرنے کی روک تھام تھا۔

اس مہم سے متعلق قانون سازی کی کوشش کامیاب نہ ہوسکی، تاہم اس تجربے نے انہیں انتخابی سیاست میں آنے اور قانون سازی کے عمل میں براہ راست حصہ لینے کی طرف مائل کیا۔

ابر کاواس نے جنوبی افریقہ کی یونیورسٹی آف جوہانسبرگ سے اسلامی آزادیِ فکر (اسلامک لبریشن تھیولوجی) میں ماسٹرز کی ڈگری بھی حاصل کی۔ وہ 2024 میں نیویارک واپس آئیں۔

نیویارک اسٹیٹ سینیٹ کی نشست کیسے جیتی؟

ابر کاواس نے 3 نومبر 2026 کو ہونے والے امریکی وسط مدتی انتخابات میں نیویارک اسٹیٹ سینیٹ کے ڈسٹرکٹ 12 سے کامیابی حاصل کی۔

یہ نشست نیویارک ریاست کی مقننہ کے ایوانِ بالا، یعنی اسٹیٹ سینیٹ کی ہے۔ اس کا تعلق امریکی وفاقی سینیٹ سے نہیں۔ ڈسٹرکٹ 12 نیویارک کے کوئنز اور بروکلین کے بعض علاقوں پر مشتمل ہے۔

ان کی کامیابی تک پہنچنے کا راستہ جون 2026 میں ہونے والے ڈیموکریٹک پارٹی کے پرائمری انتخابات سے شروع ہوا۔ انہوں نے پارٹی کے اندر نامزدگی کا مقابلہ جیتا اور نومبر کے عام انتخابات میں ڈیموکریٹک امیدوار کی حیثیت سے میدان میں اتریں۔

عام انتخابات میں ان کا مقابلہ ریپبلکن امیدوار ہان کھون تو سے تھا۔ انتخابی نتائج کے مطابق ابر کاواس نے تقریباً 74 فیصد ووٹ حاصل کیے، جب کہ ان کے حریف کو تقریباً 25 فیصد ووٹ ملے۔

ابتدائی نتائج میں 90 فیصد سے زائد ووٹوں کی گنتی کے بعد ان کی کامیابی کا اعلان کیا گیا۔ اس طرح وہ پہلی بار انتخاب لڑتے ہوئے نیویارک اسٹیٹ سینیٹ کی رکن منتخب ہوئیں۔

انہیں کن سیاسی شخصیات کی حمایت حاصل تھی؟

ابر کاواس کی انتخابی مہم کو امریکا کی ترقی پسند سیاست سے وابستہ اہم شخصیات اور تنظیموں کی حمایت حاصل تھی۔ نیویارک کے میئر زہران ممدانی، امریکی سینیٹر برنی سینڈرز اور کانگریس کی رکن راشدہ طلیب نے ان کی حمایت کی۔

وہ ڈیموکریٹک سوشلسٹس آف امریکا (ڈی ایس اے) سے بھی وابستہ ہیں، جو امریکا میں ترقی پسند سیاسی اور سماجی تبدیلی کے لیے کام کرنے والی تنظیم ہے۔ ان شخصیات کی حمایت نے ان کی انتخابی مہم کو سیاسی توجہ اور ترقی پسند حلقوں میں حمایت فراہم کی۔

ان کی انتخابی مہم کے اہم نکات کیا تھے؟

ابر کاواس کی انتخابی مہم کا نعرہ تھا: ’فنڈ ڈگنیٹی, فائیٹ ڈسٹرکشن‘، یعنی عزت و وقار کے لیے وسائل فراہم کریں اور تباہی کے خلاف جدوجہد کریں۔

ان کے انتخابی منشور میں چند اہم موضوعات شامل تھے، جن میں سب سے پہلا سستی رہائش ہے۔ انہوں نے گھروں کے بڑھتے کرایوں اور رہائشی اخراجات میں کمی کے لیے اقدامات کرنے کا یقین دلایا ہے۔

صحت کی سہولیات: تمام شہریوں کے لیے بہتر اور قابلِ رسائی طبی سہولیات۔

عوامی ٹرانسپورٹ: سستی اور قابلِ اعتماد پبلک ٹرانسپورٹ کی فراہمی۔

تارکین وطن کے حقوق: امیگریشن حکام کے ساتھ ریاستی اداروں کے تعاون کو محدود کرنے اور تارکین وطن کے تحفظ کے اقدامات۔

فلسطینی حقوق: فلسطینی عوام کے حقوق کی حمایت اور جنگ کے لیے مالی معاونت کی مخالفت۔

ماحولیاتی تحفظ: موسمیاتی تبدیلی کے اثرات سے نمٹنے کے لیے اقدامات۔

کامیابی کی ممکنہ وجوہات کیا تھیں؟

ابر کاواس کی کامیابی کے پیچھے کئی عوامل نظر آتے ہیں۔ ان میں ان کا طویل سماجی و سیاسی تنظیمی تجربہ، مقامی کمیونٹی کے مسائل سے واقفیت، ترقی پسند سیاسی حلقوں کی حمایت اور رہائش و مہنگائی جیسے عوامی مسائل پر انتخابی مہم کا مرکز رکھنا شامل ہیں۔

ان کے خاندان کا امیگریشن سے متعلق تجربہ بھی ان کے سیاسی مؤقف کا اہم حصہ رہا، جس نے تارکین وطن کے حقوق کو ان کی مہم میں نمایاں جگہ دی۔

اس کے علاوہ زہران ممدانی، برنی سینڈرز اور راشدہ طلیب جیسی شخصیات کی حمایت نے بھی انہیں وسیع سیاسی توجہ دلائی۔ تاہم ان کی جیت کی کسی ایک وجہ کو حتمی قرار دینا درست نہیں ہوگا۔ انتخابی نتائج، حلقے کے سیاسی رجحانات، ووٹروں کی ترجیحات اور انتخابی مہم کے اثرات سب اس کامیابی میں شامل ہوسکتے ہیں۔

ابر کاواس کی جیت کیوں اہم ہے؟

ابر کاواس کی کامیابی صرف ایک انتخابی نشست جیتنے کا واقعہ نہیں بلکہ امریکی ریاستی سیاست میں فلسطینی اور مسلمان امریکیوں کی نمائندگی کے حوالے سے بھی ایک اہم پیش رفت ہے۔

ان کی جیت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب امریکا میں امیگریشن، رہائش کے اخراجات، فلسطین اور اسرائیل سے متعلق امریکی پالیسی اور شہری حقوق کے موضوعات سیاسی بحث کا اہم حصہ بنے ہوئے ہیں۔

اب ابر کاواس نیویارک اسٹیٹ سینیٹ میں اپنے حلقے کی نمائندگی کریں گی، جہاں انہیں رہائش، ٹرانسپورٹ، امیگریشن اور دیگر ریاستی معاملات پر قانون سازی کے عمل میں حصہ لینا ہوگا۔