عالمی خبررساں ادارے رائٹرز کے مطابق یہ اقدام امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے اس اعلان کے بعد سامنے آیا ہے کہ امریکا تین دہائیوں بعد ایٹمی تجربات دوبارہ شروع کرے گا۔ ماہرین کے مطابق یہ پیش رفت دنیا کی دو بڑی ایٹمی طاقتوں روس اور امریکا کے درمیان کشیدگی میں خطرناک اضافے کا اشارہ ہے۔

پیوٹن نے سرکاری ٹیلی ویژن پر خطاب کرتے ہوئے کہا کہ میں وزارتِ خارجہ، وزارتِ دفاع، خفیہ ایجنسیوں اور متعلقہ سول اداروں کو ہدایت دیتا ہوں کہ معاملے پر تفصیلی معلومات اکٹھی کریں، قومی سلامتی کونسل میں تجزیہ کریں اور ایٹمی تجربات کی تیاری کے ممکنہ آغاز پر متفقہ تجاویز پیش کریں۔

یہ ہدایت سلامتی کونسل کے اجلاس کے دوران دی گئی، جب پارلیمانی اسپیکر ویچسلاو وولوڈن نے امریکی ایٹمی منصوبے پر ماسکو کے ردِعمل سے متعلق سوال کیا۔

روس کے وزیرِ دفاع آندرے بیلوسوف نے اجلاس میں کہا کہ امریکی اقدامات کے پیشِ نظر مکمل پیمانے پر ایٹمی تجربات کی تیاری فوری طور پر مناسب ہوگی۔ انہوں نے بتایا کہ روس کی آرکٹک ٹیسٹنگ سائٹ "نووایا زِملیا" قلیل مدت میں ایسے تجربات کے لیے تیار ہے۔

اسی اجلاس میں جنرل اسٹاف کے سربراہ ویلے ری گیراسیموف نے خبردار کیا کہ اگر فوری اقدامات نہ کیے گئے تو امریکا کی کارروائیوں کے جواب کے مواقع ضائع ہو سکتے ہیں، کیونکہ ایٹمی تجربات کی تیاری میں کئی ماہ سے کئی سال لگ سکتے ہیں۔

اقوامِ متحدہ کے ادارہ برائے اسلحہ بندی تحقیق کے سینئر محقق آندرے بکلِتسکی نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر کہا کہ یہ عمل اور ردِعمل کا کلاسیکی منظر ہے، کوئی بھی ایسا نہیں چاہتا، لیکن دونوں فریق اس سمت بڑھ سکتے ہیں۔

فیڈریشن آف امریکن سائنٹسٹس کے مطابق ایٹمی ہتھیاروں کے ذخائر کے لحاظ سے روس اور امریکا دنیا کی دو سب سے بڑی ایٹمی طاقتیں ہیں، جن کے بعد چین، فرانس، برطانیہ، انڈیا، پاکستان، اسرائیل اور شمالی کوریا کا نمبر آتا ہے۔

روسی خبر رساں ایجنسی کے مطابق کریملن کے ترجمان دمتری پیسکوف نے بتایا کہ صدر پیوٹن نے حکام کو تجاویز کی تیاری کے لیے کوئی مخصوص مدت مقرر نہیں کی۔

دوسری جانب آج امریکا نے اپنے بین البراعظمی بیلسٹک میزائل ‘منٹ مین تھری’ کا کامیاب تجربہ کیا ہے جو روسی ردعمل کو مزید بھڑکا سکتا ہے۔