میامی میں امریکی بزنس فورم سے خطاب کرتے ہوئے صدر ٹرمپ کا کہنا تھا کہ اپنی دوسری مدتِ صدارت کے ابتدائی آٹھ سے نو ماہ کے دوران انھوں نے نہ صرف کئی بڑے معاشی معاہدے کیے بلکہ آٹھ جنگیں بھی ختم کروائیں۔
ٹرمپ نے کہا کہ گزشتہ ہفتے ہم نے چین کے ساتھ ایک معاہدہ کیا، جاپان کے ساتھ بھی ایک زبردست ڈیل طے پائی، ملائیشیا نے بھی ہماری مدد کی۔ یہ تمام معاہدے سب کے لیے بہترین ہیں، ان آٹھ مہینوں میں میں نے آٹھ جنگیں ختم کروائیں۔
پاکستان اور انڈیا کے درمیان مئی میں ہونے والی جھڑپوں کا ذکر کرتے ہوئے صدر ٹرمپ نے کہا کہ اس وقت دونوں ممالک کے ساتھ امریکہ کے تجارتی معاہدے طے پانے والے تھے، مگر اچانک ایک خبر دیکھی کہ دونوں ملکوں کے درمیان جنگ چھڑ گئی ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ میں نے اخبار میں پڑھا کہ آٹھ طیارے مار گرائے گئے تھے، سات تباہ ہوئے اور ایک بری طرح زخمی ہوا۔ میں نے کہا کہ یہ تو جنگ ہے، دو جوہری طاقتیں آمنے سامنے ہیں۔
President Trump s speech today at the America Business Forum in Miami.
— Paul Villarreal (AKA Vince Manfeld) (@AureliusStoic1) November 5, 2025
. pic.twitter.com/9pNr6BAGZ0
ٹرمپ نے کہا کہ اس وقت میں نے دونوں ممالک کو پیغام دیا کہ اگر وہ امن کے لیے تیار نہیں ہوتے تو امریکا ان کے ساتھ کسی قسم کا تجارتی معاہدہ نہیں کرے گا۔ میں نے کہا کہ اگر آپ لوگ لڑتے رہے تو نہ کوئی تجارت ہوگی نہ کوئی ڈیل۔
انہوں نے دعویٰ کیا کہ ایک دن بعد مجھے فون آیا کہ دونوں ممالک امن کے لیے تیار ہیں، وہ رک گئے، پھر میں نے کہا کہ شکریہ اور اب تجارت کرتے ہیں۔ یہ سب ٹیرف کی وجہ سے ممکن ہوا، ٹیرف کے بغیر ایسا کبھی نہ ہوتا۔
مزید پڑھیں: روس، چین اور پاکستان خفیہ طور پر جوہری تجربات کرتے ہیں، ہمیں بھی کرنے ہوں گے، ٹرمپ
یاد رہے کہ امریکی صدر اس سے قبل بھی متعدد بار پاکستان اور انڈیا کے درمیان کشیدگی ختم کروانے کا دعویٰ کر چکے ہیں۔ پاکستان نے بھی اس معاملے میں ٹرمپ کے ثالثی کردار کو سراہا تھا اور یہاں تک کہا تھا کہ انہیں نوبل امن انعام کے لیے نامزد کیا جائے۔
دوسری جانب انڈیا نے ہمیشہ ان دعوؤں کی تردید کی ہے، نئی دہلی کے مطابق دونوں ممالک کے درمیان تنازع کا خاتمہ براہِ راست سفارتکاری کے ذریعے ممکن ہوا اور اس میں کسی تیسرے ملک کا کردار شامل نہیں تھا۔







