رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ 2023 سے اب تک 4.5 ملین افغان وطن واپس آئے ہیں، جن میں سے تقریباً 1.5 ملین افراد اس سال زبردستی پاکستان اور ایران سے واپس بھیجے گئے۔ زیادہ تر واپسی کرنے والے خاندان بنیادی ضروریات پوری کرنے کے لیے صحت کی سہولیات ترک کر کے خوراک خریدنے پر مجبور ہیں اور 90 فیصد سے زیادہ نے قرض لیا ہے۔

واپسی کرنے والے خاندانوں کے قرض کی حد 373 سے 900 ڈالر تک ہے، جب کہ ماہانہ اوسط آمدنی صرف 100 ڈالر ہے۔ رہائش کے مسائل بھی شدید ہیں کیونکہ کرایہ تین گنا بڑھ گیا ہے اور نصف سے زیادہ خاندانوں کے پاس مناسب جگہ یا بستروں کی کمی ہے۔

UNDP نے ہنگامی بنیادوں پر مدد کی اپیل کرتے ہوئے کہا کہ آمدنی کے مواقع، بنیادی خدمات، رہائش اور سماجی ہم آہنگی کو جوڑ کر واپس آنے والے علاقوں پر دباؤ کم کیا جا سکتا ہے اور ثانوی بے گھری کے خطرات کو کم کیا جا سکتا ہے۔

رپورٹ میں یہ بھی بتایا گیا ہے کہ افغان خواتین کے لیے محدود معاشی مواقع واپسی کرنے والے خاندانوں کی مشکلات کو مزید بڑھا رہے ہیں، کیونکہ خواتین ہی اکثر گھرانہ کی کفالت کرتی ہیں۔ افغانستان میں خواتین کی لیبر فورس میں شرکت صرف 6 فیصد ہے اور ان کی نقل و حرکت پر پابندیوں کی وجہ سے روزگار، تعلیم اور صحت کی سہولیات تک رسائی تقریباً ناممکن ہو گئی ہے۔

اقوام متحدہ نے خبردار کیا ہے کہ خواتین کو کام سے باہر رکھنا نہ صرف گھرانوں کے لیے نقصان دہ ہے بلکہ واپسی کرنے والوں اور قدرتی آفات کے متاثرین کے لیے خدمات کی فراہمی بھی متاثر ہوتی ہے۔