سماجی رابطے کی سائٹ ایکس (سابقہ ٹوئٹر) پر انہوں نے کہا کہ میرے خلاف جارحانہ زبان ہمیشہ خطرناک ثابت ہوئی ہے۔ اس طرح کی تقاریر کے نتیجے میں پہلے بھی شدت پسند افراد کو شہ ملی اور وہ دھمکیوں اور حملوں تک پہنچے۔ اس بار یہ سب امریکا کے صدر کی جانب سے ہو رہا ہے۔

گرین، جو ماضی میں ٹرمپ کی مضبوط حمایت کرتی رہی ہیں لیکن حالیہ مہینوں میں کئی معاملات پر ان سے اختلافات کھل کر سامنے آئے ہیں، نے دعویٰ کیا کہ انہیں نجی سیکیورٹی کمپنیوں نے ان کی سیکیورٹی کے حوالے سے خبردار کیا ہے۔

واضح رہے کہ وائٹ ہاؤس نے تاحال اس پر کوئی ردعمل نہیں دیا۔

ٹرمپ نے جمعہ کی رات ایک سخت سوشل میڈیا پوسٹ میں 51 سالہ گرین کو پاگل، رینٹنگ لونائٹک اور وہ خاتون جو فون اٹھانے پر شکایت کرتی ہے جیسے الفاظ سے نوازا۔

صدر نے ہفتے کو بھی تنقید جاری رکھتے ہوئے انہیں لائٹ ویٹ کانگریس وومن، غدار اور ریپبلکن پارٹی کے لیے شرمندگی قرار دیا۔

اپنے جواب میں گرین نے کہا کہ ٹرمپ جھوٹ بول رہے ہیں اور ان کا مقصد ریپبلکن اراکین کو آئندہ ہفتے ایپ اسٹین فائلز سے متعلق ہونے والی ووٹنگ سے پہلے دباؤ میں لانا ہے۔ انہوں نے مزید لکھا کہ اب انہیں ایپسٹین کے متاثرین کے خوف کا تھوڑا سا اندازہ ہو رہا ہے۔

گرین نے کہا کہ وہ صدر ٹرمپ کی قانون سازی کی اکثریت میں حمایت کرتی رہی ہیں، لیکن ان کے خلاف صدر کا یہ جارحانہ رویہ اور اس کے نتیجے میں اٹھنے والی آن لائن نفرت انگیزی ناقابلِ یقین ہے۔

ایپ اسٹین فائلز، اصل تنازع کیا ہے؟

بدھ کو مارجری گرین صرف چار ریپبلکنز میں شامل تھیں جنہوں نے ڈیموکریٹس کا ساتھ دیتے ہوئے ایک قرارداد پر دستخط کیے، جس کے تحت امریکی محکمہ انصاف کی مکمل ایپ اسٹین فائلز شائع کروانے کے لیے کارروائی شروع ہوگی۔

اسی عمل نے ٹرمپ اور گرین کے درمیان کشیدگی کو عروج پر پہنچا دیا ہے، کیوں کہ 1990 اور 2000 کی دہائی میں ایپ اسٹین اور ٹرمپ کے روابط میڈیا میں زیرِ بحث ہیں۔ ٹرمپ نے ایپ اسٹین تنازع کو "ڈیموکریٹس کا گھڑا ہوا پروپیگنڈا" قرار دیا ہے۔

ٹرمپ نے اپنی پوسٹس میں عندیہ دیا کہ گرین کے حلقے میں قدامت پسند ووٹرز انہیں پسند نہیں کرتے اور وہ جلد ہی اگلے الیکشن میں ان کے خلاف کسی امیدوار کی حمایت کر سکتے ہیں۔