عالمی خبررساں اداروں کے مطابق مئی میں منتخب ہونے والے پوپ لیو چھ روزہ دورے میں ترکی میں کونسل آف نقیہ کے 1700 سال مکمل ہونے کی تقریبات میں شرکت کریں گے، وہی کونسل جہاں مسیحی عقائد کا بنیادی بیان ’کریڈ‘ تحریر کیا گیا تھا۔
ترکی میں عموماً خاموش ردعمل سامنے آیا ہے جہاں 86 ملین آبادی میں مسیحیوں کا حصہ صرف 0.2 فیصد ہے، تاہم لبنان پوپ کے استقبال کے لیے بے چین ہے۔ لبنان 2019 سے شدید معاشی بحران، بیروت پورٹ دھماکے اور اسرائیل کے ساتھ حالیہ جنگ کا سامنا کرتا رہا ہے۔
اتوار کو اسرائیل نے بیروت پر جون کے بعد پہلی بار فضائی حملہ کیا اور دعویٰ کیا کہ حزب اللہ کے چیف آف اسٹاف ہشام طباطبائی کو مار دیا گیا۔ حملے میں 5 افراد جاں بحق اور 25 زخمی ہوئے۔
گزشتہ ہفتوں میں اسرائیلی حملوں میں اضافہ ہوا ہے جبکہ اسرائیل اور امریکا لبنان پر حزب اللہ کو غیر مسلح کرنے کے لیے دباؤ ڈال رہے ہیں۔ لبنانی حکومت نے اس دعوے کی تردید کی ہے کہ حزب اللہ دوبارہ اپنی عسکری طاقت بڑھا رہی ہے۔
مشرقی وسطیٰ میں مسیحیوں کی امداد کرنے والی ایک تنظیم کے سربراہ ونسنٹ جیلوت کے مطابق لبنانی عوام تھک چکے ہیں، وہ پوپ سے صاف، مضبوط اور عملی پیغام کی امید رکھتے ہیں۔
دورے کے دوران بیروت کی سڑکوں پر پوپ کی تصاویر اور ’’لبنان امن چاہتا ہے‘‘ کے پوسٹر آویزاں کر دیے گئے ہیں۔ لبنان کے سفیر فادی عساف کے مطابق یہ ’’غیر معمولی‘‘ دورہ ملک کی مشکلات کو اجاگر کرے گا۔
پوپ بیروت پورٹ دھماکے کے مقام پر دعا بھی کریں گے، جہاں 2020 میں 220 سے زائد افراد جاں بحق ہوئے تھے۔ ترکی میں پوپ انقرہ میں صدر رجب طیب اردوان سے ملاقات کریں گے اور استنبول کی تاریخی بلو مسجد کا دورہ کریں گے۔
#PopeLeo XIV embarks on his first international trip since becoming head of the Catholic Church, visiting #Türkiye and #Lebanon to promote peace and unity. pic.twitter.com/yN1q16U3rK
— AnewZ (@Anewz_tv) November 25, 2025
دورے کی اصل بنیاد کونسل آف نقیہ کی سالگرہ ہے، جس کی تقریب میں پوپ کو آرتھوڈوکس چرچ کے سربراہ پیٹریاچ برتھولومیو نے مدعو کیا ہے۔ یہ موقع مشرقی اور مغربی چرچ کے درمیان اتحاد کو فروغ دینے کے لیے اہم سمجھا جا رہا ہے۔ البتہ یوکرین جنگ کے باعث ماسکو اور قسطنطنیہ کے درمیان بڑھتی خلیج کے پیشِ نظر روسی پیٹریاچ کریل کو دعوت نہیں دی گئی۔
رپورٹس کے مطابق ویٹیکن اس بات کا خیال رکھے گا کہ کوئی ایسا بیان نہ آئے جو ماسکو کو مزید ناراض کرے، خصوصاً ایسے وقت میں جب روس کو ویٹیکن کے کردار بڑھنے کا خدشہ ہے۔







