غیرملکی نشریاتی ادارے الجزیرہ کے مطابق اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل انتونیو گوتریس نے واقعے کی شدید مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ اقوام متحدہ کے امن اہلکاروں کو نشانہ بنانا بین الاقوامی قانون کے تحت جنگی جرم کے زمرے میں آ سکتا ہے اور اس واقعے پر جوابدہی لازم ہوگی۔
سیکریٹری جنرل کے بیان کے مطابق حملے میں زخمی ہونے والے تمام آٹھ اہلکاروں کی حالت تشویشناک ہے، جب کہ جاں بحق اور زخمی ہونے والے تمام افراد اقوام متحدہ کی عبوری سلامتی فورس برائے ابیئی میں خدمات انجام دے رہے تھے۔
بنگلہ دیش کے عبوری سربراہ محمد یونس نے حملے پر گہرے رنج و غم کا اظہار کرتے ہوئے اقوام متحدہ سے مطالبہ کیا ہے کہ زخمی اہلکاروں کو فوری اور اعلیٰ ترین طبی سہولیات فراہم کی جائیں۔
سوڈانی فوج نے اس حملے کا الزام نیم فوجی گروہ ریپڈ سپورٹ فورسز (آرایس ایف) پر عائد کرتے ہوئے کہا ہے کہ باغی ملیشیا نے اسٹریٹجک ڈرون کے ذریعے تین میزائل داغے، جس کے نتیجے میں اقوام متحدہ کے ایک گودام میں آگ بھڑک اٹھی اور جانی نقصان ہوا، یہ حملہ بین الاقوامی انسانی قوانین اور اقوام متحدہ کی قراردادوں کی کھلی خلاف ورزی ہے۔
سوڈان کی ٹرانزیشنل سوورینٹی کونسل نے بھی اس واقعے کی شدید مذمت کرتے ہوئے اسے اقوام متحدہ کی تنصیبات پر حملہ اور ایک منظم دہشت گرد کارروائی قرار دیا ہے۔ کونسل نے عالمی برادری سے مطالبہ کیا ہے کہ ذمہ دار عناصر کے خلاف سخت اور مؤثر کارروائی کی جائے۔
لازمی پڑھیں: اقوام متحدہ مشن یواین اے ایم آئی کا اختتام، عراق خود انحصاری کی منزل پر پہنچ گیا، انتونیو گوتریس
واضح رہے کہ ابیئی کا تیل سے مالا مال علاقہ سوڈان اور جنوبی سوڈان کے درمیان متنازع ہے، جہاں اقوام متحدہ کا امن مشن 2011 سے تعینات ہے۔ اپریل 2023 میں سوڈانی فوج اور ریپڈ سپورٹ فورسز کے درمیان جنگ شروع ہونے کے بعد یہ اقوام متحدہ کے مشن پر پہلا ڈرون حملہ ہے۔
مزید یہ کہ آر ایس ایف کی جانب سے واقعے پر تاحال کوئی باضابطہ ردعمل سامنے نہیں آیا۔







