بغداد میں منعقدہ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے انتونیو گوتریس نے کہا کہ عراقی عوام نے دہائیوں پر محیط تشدد، جنگ، دہشت گردی، فرقہ واریت اور بیرونی مداخلت کے باوجود ہمت، حوصلے اور عزم کے ساتھ امن اور جمہوری نظام کی بنیاد رکھی۔
انہوں نے کہا کہ آج عراق ایک ایسا ملک بن چکا ہے جو امن، بہتر سیکیورٹی اور ترقی کے سفر پر گامزن ہے۔
سیکریٹری جنرل کا کہنا تھا کہ یو این اے ایم آئی کو عراقی عوام کے شانہ بشانہ کام کرنے کا اعزاز حاصل رہا۔ مشن نے عدالتی و قانونی اصلاحات، انسانی حقوق کے فروغ، خواتین، نوجوانوں اور اقلیتوں کے لیے شہری آزادیوں کے تحفظ اور داعش کے خلاف جنگ کے دوران لاکھوں بے گھر افراد کی مدد میں کلیدی کردار ادا کیا۔
انتونیو گوتریس نے 19 اگست 2003 کو بغداد میں اقوام متحدہ کے ہیڈکوارٹر پر ہونے والے دہشت گرد حملے میں شہید ہونے والے 22 یو این اہلکاروں کو خراج عقیدت پیش کیا اور کہا کہ ان کی قربانیاں کبھی فراموش نہیں کی جائیں گی، جن میں مشن کے پہلے سربراہ سرجیو ویرا ڈی میلو بھی شامل تھے۔
اس موقع پر عراقی نگراں وزیراعظم محمد شیعہ السودانی نے کہا کہ اقوام متحدہ مشن کا اختتام اس بات کا ثبوت ہے کہ عراق اب مکمل خود انحصاری کے مرحلے میں داخل ہو چکا ہے۔ انہوں نے کہا کہ یو این اے ایم آئی نے آمریت، جنگوں اور دہشت گردی سے متاثرہ ملک میں استحکام لانے میں اہم کردار ادا کیا۔
یہ بھی پڑھیں: تھائی لینڈ ہماری سرزمین اور شہری انفراسٹرکچر کے خلاف فوجی کارروائیاں فوری طور پر بند کرے، کمبوڈیا
محمد شیعہ السودانی نے واضح کیا کہ یو این اے ایم آئی کا خاتمہ عراق اور اقوام متحدہ کے تعلقات کے خاتمے کے مترادف نہیں بلکہ یہ تعاون کے ایک نئے دور کا آغاز ہے، جو ترقی اور جامع معاشی خوشحالی پر مرکوز ہوگا۔
انہوں نے اعلان کیا کہ بغداد میں ایک سڑک کو ’’اقوام متحدہ اسٹریٹ‘‘ کا نام دیا جائے گا تاکہ 2003 میں شہید ہونے والے یو این اہلکاروں کی یاد کو زندہ رکھا جا سکے۔
انتونیو گوتریس نے کہا کہ اگرچہ یو این اے ایم آئی کا باب بند ہو رہا ہے، لیکن اقوام متحدہ عراق کے عوام کے ساتھ امن، پائیدار ترقی اور انسانی حقوق کے سفر میں ہر قدم پر ساتھ رہے گی، آج عراق اور اقوام متحدہ کے تعلقات ایک نئے، معمول کے اور شراکت داری پر مبنی مرحلے میں داخل ہو رہے ہیں۔







