عالمی خبر رساں ادارے روئٹرز کے مطابق الیذے محل سے خالص چاندی کی کٹلری، رینے لالیک کا نایاب مجسمہ، شیمپین گلاسز سمیت 100 سے زائد قیمتی اشیا چوری کی گئیں۔
فرانسیسی پولیس کا کہنا ہے کہ یہ اشیا محل کے چیف بٹلر تھامس ایم نے چرائیں، جب کہ مسروقہ سامان ان کے گھر، گاڑی اور لاکر سے برآمد ہوا۔
چوری شدہ اشیا کی مالیت 15 ہزار سے 40 ہزار یورو (تقریباً 13 سے 35 ہزار پاؤنڈ) کے درمیان ہے۔ جرم ثابت ہونے کی صورت میں تینوں ملزمان کو 10 سال قید اور 1 لاکھ 50 ہزار یورو جرمانہ ہو سکتا ہے۔
تفتیش کاروں کے مطابق کچھ اشیا تھامس ایم کے آن لائن اکاؤنٹ کے ذریعے فروخت کے لیے بھی پیش کی گئی تھیں، جس سے ان پر شک گہرا ہوا۔ اس کے علاوہ شاہی برتنوں کے ریکارڈ میں ردوبدل بھی کیا گیا تاکہ چوری کو چھپایا جا سکے، جب کہ ایک فہرست مزید اشیا چرانے کے ارادے کی نشاندہی کرتی ہے۔
تھامس ایم کے ساتھ اس مقدمے میں اُن کے ساتھی ڈیمیئن جی کو بھی عدالت میں پیش کیا جائے گا، جو ایک کلیکٹر اور آن لائن نیلامی کمپنی کا منیجر ہے۔
تیسرا ملزم غزلین ایم لوو میوزیم میں بطور گارڈ کام کرتا تھا اور اسے چوری شدہ سامان وصول کرنے کے الزام میں گرفتار کیا گیا۔
وکلاء کے مطابق نوادرات سے گہری دلچسپی اس معاملے میں اس کی شمولیت کا سبب بنی۔ اسے مقدمے کے فیصلے تک لوو میوزیم میں کام سے روک دیا گیا ہے۔
فرانسیسی میڈیا کا کہنا ہے کہ الیذے محل نے تھامس ایم کی برطرفی کے بعد نئے چیف بٹلر کی تقرری کے لیے اشتہار بھی جاری کر دیا ہے۔
دوسری جانب سیور کے سرکاری چینی مٹی کے برتن بنانے والے ادارے نے بھی چند اشیاء کو آن لائن نیلامی ویب سائٹس پر شناخت کر لیا ہے، جن میں فرانسیسی فضائیہ کی مہر والا پلیٹ اور ایش ٹرے شامل ہیں۔
واضح رہے کہ یہ واقعہ اُس بڑی چوری کے چند ماہ بعد سامنے آیا ہے جو پیرس کے لوو میوزیم میں پیش آئی تھی، جہاں سے 88 ملین یورو مالیت کے زیورات چوری کیے گئے تھے۔
الیذے محل کے اس اسکینڈل نے پورے فرانس میں شدید بحث چھیڑ دی ہے، جب کہ ملزمان کے خلاف مقدمے کی کارروائی فروری میں شروع ہونے کا امکان ہے۔






