عالمی نشریاتی ادارے الجزیرہ کےمطابق کوومن تانگ (کے ایم ٹی) اور تائیوان پیپلز پارٹی (ٹی پی پی) نے صدر اور وزیرِاعظم پر آئین اور پارلیمانی طریقۂ کار کی خلاف ورزی کے الزامات عائد کرتے ہوئے جمعے کو باضابطہ طور پر مواخذے کی تحریک پیش کی۔
اپوزیشن اور دو آزاد ارکان کے پاس کارروائی شروع کرنے کے لیے مطلوبہ نشستیں موجود ہیں، تاہم 19 مئی کو متوقع ووٹنگ میں کامیابی کے لیے درکار دو تہائی اکثریت انہیں حاصل نہیں۔
سیاسی مبصرین کے مطابق یہ مواخذے کی کوشش عملی طور پر کامیاب ہونے کا امکان نہیں رکھتی اور نہ ہی آئینی عدالت میں آگے بڑھ پائے گی، تاہم اپوزیشن کے لیے یہ صدر لائی اور وزیرِاعظم چو کے خلاف احتجاج ریکارڈ کرانے کا ایک علامتی طریقہ ہے۔
اکیڈمیا سینیکا سے وابستہ آئینی ماہر ین تُو سو کا کہنا ہے کہ حقیقی معنوں میں مواخذہ ممکن نہیں، لیکن اپوزیشن چاہتی ہے کہ صدر لائی کو تائیوان کی جمہوری تاریخ میں پہلے ایسے صدر کے طور پر یاد رکھا جائے جن کے خلاف مواخذے کی کارروائی شروع ہوئی۔ یہ صدر کو سیاسی طور پر دباؤ میں لانے اور حکومت کی قانون سازی روکنے کے ردعمل کا ایک طریقہ ہے۔
صدر لائی کے 2024 میں اقتدار سنبھالنے کے بعد سے تائیوان کی پارلیمنٹ شدید تعطل کا شکار ہے۔ اگرچہ ڈیموکریٹک پروگریسو پارٹی مسلسل تیسری بار صدارتی انتخاب جیتنے میں کامیاب رہی، تاہم پارلیمنٹ میں اکثریت کھو دینے کے باعث حکومت کو شدید سیاسی مشکلات کا سامنا ہے۔
چین کے ساتھ تعلقات اور آئینی عدالت کی تشکیل سمیت متعدد معاملات پر حکومت اور اپوزیشن کے درمیان شدید اختلافات جاری ہیں۔ حکومت کو 2026 کے بجٹ کے بعض حصے منظور کرانے میں مشکلات کا سامنا ہے، جب کہ اپوزیشن نے دفاعی اخراجات بڑھانے کے لیے پیش کیے گئے 40 ارب ڈالر کے اضافی بل کو بھی روک رکھا ہے۔
لازمی پڑھیں: یو اے ای کے صدر کا دورہ پاکستان، راولپنڈی آمد پر شاندار استقبال کیا گیا
سیاسی تجزیہ کار برائن ہیو کے مطابق یہ مواخذے کی مہم زیادہ تر توجہ حاصل کرنے کی کوشش ہے اور اس کا مقصد صدر لائی کو جمہوری اداروں کی خلاف ورزی کرنے والے رہنما کے طور پر پیش کرنا ہے، تاہم یہ اقدام زیادہ تر اپوزیشن کے بنیادی ووٹرز تک ہی محدود رہے گا۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ صورتحال تائیوان میں دوسری بار تقسیم شدہ حکومت کے دور کی نشاندہی کرتی ہے، تاہم موجودہ سیاسی کشیدگی ماضی کے مقابلے میں کہیں زیادہ شدید اور پیچیدہ ہو چکی ہے۔







