امریکی اخبار نیویارک پوسٹ کو انٹرویو دیتے ہوئے صدر ٹرمپ کا کہنا تھا کہ صومالی لینڈ کے معاملے پر ابھی غور جاری ہے۔ سب کچھ زیرِ مطالعہ ہے، ہم اس معاملے کا جائزہ لیں گے، کیا واقعی کوئی جانتا ہے کہ صومالی لینڈ کیا ہے؟
واضح رہے کہ یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب جمعے کے روز اسرائیل نے صومالی لینڈ کو باضابطہ طور پر ایک آزاد اور خودمختار ریاست کے طور پر تسلیم کرنے کا اعلان کیا۔
اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو اور صومالی لینڈ کے صدر عبدالرحمٰن محمد عبداللہی کے درمیان ایک مشترکہ اعلامیے پر دستخط کیے گئے، جس کے تحت دونوں ممالک کے درمیان مکمل سفارتی تعلقات، سفیروں کے تبادلے اور سفارت خانے کھولنے کا اعلان کیا گیا۔
اسرائیل کے اس اقدام کے بعد صومالی لینڈ کے دارالحکومت ہرگیسا میں عوام سڑکوں پر نکل آئے اور جشن منایا۔ شہر کے نیشنل میوزیم پر اسرائیلی اور صومالی لینڈ کے پرچم آویزاں کیے گئے، جب کہ شہریوں نے قومی پرچم لہرا کر خوشی کا اظہار کیا۔
صومالی لینڈ کے صدر عبدالرحمٰن محمد عبداللہی نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر اسرائیل کی جانب سے تسلیم کیے جانے کو تاریخی لمحہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ اقدام دونوں ممالک کے درمیان اسٹریٹجک شراکت داری کا آغاز ہے۔
یہ بھی پڑھیں: اقوامِ متحدہ کی سوڈان میں فوری جنگ بندی کی اپیل، یہ تنازع دنیا کے بدترین انسانی بحران میں تبدیل ہو چکا ہے
دوسری جانب اسرائیل کے اس فیصلے پر شدید ردعمل بھی سامنے آیا ہے۔ صومالیہ نے صومالی لینڈ کی کسی بھی قسم کی عالمی سطح پر شناخت کو اپنی خودمختاری پر حملہ قرار دیتے ہوئے اسے علاقائی امن کے لیے خطرہ کہا ہے۔ صومالی حکومت نے کہا کہ اسرائیل کا اقدام صومالیہ کی سالمیت کو کمزور کرنے کی دانستہ کوشش ہے۔
فلسطینی اتھارٹی نے بھی اسرائیل کے فیصلے کو مسترد کرتے ہوئے خدشہ ظاہر کیا کہ صومالی لینڈ کو غزہ سے فلسطینیوں کی جبری منتقلی کے لیے استعمال کیے جانے کے امکانات پر غور کیا جا رہا ہے، جسے کسی صورت قبول نہیں کیا جائے گا۔
ترکی، مصر، سعودی عرب اور افریقی یونین نے بھی اسرائیل کے اقدام کی مذمت کی ہے۔ افریقی یونین کا کہنا ہے کہ صومالی لینڈ بدستور صومالیہ کا حصہ ہے اور اس نوعیت کے اقدامات براعظم افریقہ میں امن و استحکام کے لیے خطرناک مثال قائم کر سکتے ہیں۔
خیال رہے کہ صومالی لینڈ نے 1991 میں صومالیہ سے یکطرفہ آزادی کا اعلان کیا تھا۔ اگرچہ وہاں اپنی کرنسی، پاسپورٹ اور سیکیورٹی فورسز موجود ہیں اور خطہ نسبتاً پرامن ہے، تاہم بین الاقوامی سطح پر تسلیم نہ کیے جانے کے باعث یہ علاقہ اب تک سفارتی اور معاشی تنہائی کا شکار ہے۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے واضح کیا ہے کہ واشنگٹن اس معاملے پر کسی بھی فیصلے سے قبل اسرائیلی مؤقف کا جائزہ لے گا، تاہم فی الحال امریکا اسرائیل کے نقشِ قدم پر چلنے کے لیے تیار نہیں۔







