یمن کی سرکاری خبر رساں ایجنسی سبا کے مطابق یہ فیصلہ یمن کی صدارتی کونسل اور یو اے ای کی حمایت یافتہ سدرن ٹرانزیشنل کونسل (ایس ٹی سی) کے درمیان بڑھتی کشیدگی کے تناظر میں کیا گیا ہے، جس کے بعد ایس ٹی سی نے رواں ماہ حضرموت اور المہرہ کے وسیع علاقوں پر قبضہ کر لیا تھا۔

اعلامیے کے مطابق فیصلے کے تحت یمن کی سرزمین پر موجود یو اے ای کی تمام فوجی فورسز اور اہلکاروں کو مقررہ وقت میں انخلا کرنا ہوگا، جب کہ سعودی عرب کی حمایت یافتہ نیشنل شیلڈ فورسز کو فوری طور پر حضرموت اور المہرہ میں تمام فوجی کیمپوں کا کنٹرول سنبھالنے کی ہدایت دی گئی ہے۔ تاہم انخلا کے عملی طریقہ کار یا مستقبل میں یمن اور یو اے ای کے تعلقات کے حوالے سے کوئی تفصیلات فراہم نہیں کی گئیں۔

رشاد العلیمی نے منگل کے روز ملک بھر میں 90 دن کے لیے ہنگامی حالت نافذ کرنے کا بھی اعلان کیا، جس کا مقصد قومی سلامتی کا تحفظ اور امن و امان کی بحالی قرار دیا گیا ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ یمن کی تمام بندرگاہوں اور زمینی و بحری راستوں پر 72 گھنٹوں کے لیے مکمل فضائی، زمینی اور بحری ناکہ بندی نافذ کر دی گئی ہے۔

یمن میں 2014 سے جاری تنازع اس وقت شدت اختیار کر گیا تھا جب حوثی باغیوں نے دارالحکومت صنعا سمیت شمالی علاقوں پر قبضہ کر لیا، جس کے بعد 2015 میں سعودی قیادت میں عسکری اتحاد نے مداخلت کی۔

واضح رہے کہ سدرن ٹرانزیشنل کونسل، جو 2017 میں قائم ہوئی، جنوبی یمن کی خودمختاری اور آزادی کی حامی ہے اور 2022 میں صدارتی کونسل میں شامل ہونے کے باوجود علیحدگی کے مطالبے پر قائم ہے۔

سعودی عرب نے بھی منگل کے روز واضح کیا کہ اس کی قومی سلامتی ایک سرخ لکیر ہے اور اس نے یو اے ای سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ 24 گھنٹوں کے اندر یمن سے اپنی افواج واپس بلائے۔ یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا جب سعودی قیادت میں قائم اتحاد نے جنوبی یمن کی مکلا بندرگاہ پر محدود فضائی کارروائی کی۔

سعودی وزارت خارجہ کے مطابق یو اے ای کی جانب سے علیحدگی پسند گروہوں کی حمایت سعودی عرب کی قومی سلامتی کے لیے براہِ راست خطرہ ہے اور ایسے اقدامات نہ صرف یمن بلکہ پورے خطے کے امن و استحکام کے لیے نقصان دہ ثابت ہو سکتے ہیں۔

ادھر یمن کے صدارتی کونسل کے نائب سربراہ اور ایس ٹی سی کے سربراہ عیدروس الزبیدی نے دیگر اراکین کے ہمراہ رشاد العلیمی کے فیصلے کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ یو اے ای بدستور حوثیوں کے خلاف جنگ میں اہم شراکت دار ہے۔ مشترکہ بیان میں کہا گیا کہ کسی ایک فرد کو عرب اتحاد سے کسی ملک کو نکالنے کا اختیار حاصل نہیں۔

صورتحال کے پیش نظر خلیجی ممالک کی اسٹاک مارکیٹس میں بھی مندی دیکھی گئی ہے، جب کہ ماہرین کے مطابق سعودی عرب اور یو اے ای کے درمیان بڑھتا اختلاف نہ صرف یمن کے بحران کو مزید پیچیدہ بنا سکتا ہے بلکہ اوپیک میں تیل کی پیداوار سے متعلق اتفاقِ رائے کو بھی متاثر کر سکتا ہے۔