آئی ایف جے کی جانب سے بدھ کو جاری کی گئی رپورٹ کے مطابق گزشتہ برس دنیا بھر میں 128 صحافی اور میڈیا ورکرز ہلاک ہوئے، جن میں سے 74 کا تعلق مشرقِ وسطیٰ سے تھا، جو مجموعی تعداد کا نصف سے بھی زیادہ ہے۔

رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ مشرقِ وسطیٰ کے بعد افریقہ میں 18، ایشیا پیسفک میں 15، امریکا میں 11 اور یورپ میں 10 صحافی ہلاک ہوئے۔ ہلاک ہونے والوں میں اکثریت مردوں کی تھی، تاہم 10 خواتین صحافی بھی شامل تھیں۔

آئی ایف جے کے جنرل سیکریٹری انتھونی بیلانجر نے کہا کہ ایک ہی سال میں 128 صحافیوں کا قتل محض اعداد و شمار نہیں بلکہ ایک عالمی بحران ہے، یہ اموات اس بات کی واضح یاد دہانی ہیں کہ صحافیوں کو بلا روک ٹوک نشانہ بنایا جا رہا ہے، صرف اس لیے کہ وہ اپنا پیشہ ورانہ فریضہ انجام دے رہے ہیں۔

رپورٹ کے مطابق فلسطینی صحافی سب سے زیادہ متاثر ہوئے، جہاں 2025 میں 56 فلسطینی میڈیا پروفیشنلز ہلاک کیے گئے۔ اس کے بعد یمن میں 13، یوکرین میں 8 اور سوڈان میں 6 صحافی جان سے گئے۔

پیرس میں قائم تنظیم نے الجزیرہ کے صحافی انس الشریف کی ہلاکت کو فلسطین میں صحافیوں کے قتل کی “سب سے نمایاں مثال” قرار دیا۔ 28 سالہ انس الشریف 10 اگست کو غزہ سٹی کے الشفا اسپتال کے باہر میڈیا ٹینٹ پر اسرائیلی حملے میں اپنے ساتھیوں سمیت مارے گئے۔

اس حملے میں الجزیرہ کے نمائندے محمد قریقہ، کیمرہ آپریٹرز ابراہیم زاہر اور محمد نوفل، فری لانس کیمرہ آپریٹر مومن علیوہ اور فری لانس صحافی محمد الخالدی بھی جاں بحق ہوئے۔

آئی ایف جے نے ستمبر کے اوائل میں یمن میں ایک اخبار کے دفتر پر اسرائیلی حملے کو بھی “میڈیا دفتر پر بدترین حملوں میں سے ایک” قرار دیا، جس میں حوثی تنظیم سے وابستہ اخبار “26 ستمبر” کے 13 صحافی اور میڈیا ورکرز سمیت 20 سے زائد افراد ہلاک ہوئے۔

رپورٹ میں بتایا گیا کہ 9 صحافیوں کی اموات کو حادثات قرار دیا گیا، جب کہ شام اور ایران میں دو، دو صحافیوں کو ان کے کام کی وجہ سے “دانستہ طور پر نشانہ بنا کر قتل” کیا گیا۔

آئی ایف جے کے مطابق اگرچہ مشرقِ وسطیٰ مسلسل تیسرے سال صحافیوں کے لیے سب سے مہلک خطہ رہا، تاہم ایشیا پیسفک میں قید صحافیوں کی تعداد سب سے زیادہ رہی۔ 2025 میں چین اور ہانگ کانگ میں مجموعی طور پر 143 صحافی قید تھے، اس کے بعد میانمار میں 49 اور ویتنام میں 37 صحافی جیلوں میں بند رہے۔

یورپ بھی صحافیوں کی حراست کے حوالے سے نمایاں رہا، جہاں گزشتہ سال 149 صحافی قید تھے۔ آئی ایف جے کے مطابق اس تعداد میں 40 فیصد اضافہ آذربائیجان اور روس میں سخت گیر اقدامات کے باعث ہوا۔