قطری نشریاتی ادارے الجزیرہ کے مطابق پینٹاگون نے صدر ٹرمپ کے سامنے جو فہرست رکھی ہے، اس میں ایران کی جوہری تنصیبات اور بیلسٹک میزائل مراکز کو نمایاں طور پر شامل کیا گیا ہے۔
اس کے علاوہ پینٹاگون نے ایک متبادل آپشن کے طور پر سائبر حملوں کی تجویز بھی پیش کی ہے، جس پر غور کیا جا سکتا ہے، جب کہ امریکی بحریہ کو پہلے ہی ہائی الرٹ کر دیا گیا ہے۔
رپورٹ کے مطابق پینٹاگون نے صدر ٹرمپ کو وسیع نوعیت کے متعدد فوجی منصوبے پیش کیے ہیں، تاہم امریکی حکام کے مطابق بڑے پیمانے پر براہِ راست حملے کے بجائے محدود کارروائیاں زیادہ قابلِ عمل سمجھی جا رہی ہیں۔
The Pentagon has presented a wide range of options to President Trump for targets in Iran, including Iran’s nuclear programme and ballistic missile sites, reports the New York Times newspaper quoting US officials.
— Al Jazeera English (@AJEnglish) January 14, 2026
🔴 LIVE updates: https://t.co/eWe8a8W8yG pic.twitter.com/VNBBCIki41
حکام نے واضح کیا ہے کہ کسی بھی قسم کی ممکنہ فوجی کارروائی میں ابھی چند دن لگ سکتے ہیں، لیکن اگر ایسا قدم اٹھایا گیا تو اس کے جواب میں ایران کی جانب سے سخت اور بھرپور ردعمل کا خدشہ موجود ہے۔
رپورٹ میں مزید بتایا گیا ہے کہ امریکی فوجی حکام کے مطابق اس وقت امریکی بحریہ کے تین ڈسٹرائر جنگی جہاز جن میں میزائل فائر کرنے کی صلاحیت موجود ہے، مشرقِ وسطیٰ کے خطے میں تعینات ہیں۔ ان میں سے ایک جنگی جہاز یو ایس ایس روزویلٹ حالیہ دنوں میں بحیرۂ احمر میں داخل ہوا ہے۔
Trump administration has been given a detailed hit list of Iranian military targets as Trump weighs a possible strike on Iran.
— Clash Report (@clashreport) January 14, 2026
A U.S.-based group handed the White House a 50-target dossier, including exact coordinates of the IRGC’s Tharallah Headquarters in Tehran — described… pic.twitter.com/rNcjWsRt3C
اس کے علاوہ امریکی بحریہ کی کم از کم ایک میزائل بردار آبدوز بھی خطے میں موجود ہے، جس کی تصدیق پینٹاگون حکام نے کی ہے۔ ان تعیناتیوں کو ایران کے ساتھ بڑھتی ہوئی کشیدگی کے تناظر میں دباؤ بڑھانے اور دفاعی تیاری کا حصہ قرار دیا جا رہا ہے۔
خیال رہے کہ یہ پیش رفت ایسے وقت سامنے آئی ہے جب امریکا اور ایران کے درمیان کشیدگی تیزی سے بڑھ رہی ہے۔
ایران پہلے ہی خبردار کر چکا ہے کہ اگر امریکا نے حملہ کیا تو وہ خطے میں امریکی مفادات اور فوجی اڈوں کو نشانہ بنائے گا، جب کہ خلیجی ممالک کسی بھی ممکنہ فوجی تصادم کے اثرات سے نمٹنے کے لیے سفارتی کوششیں تیز کر رہے ہیں۔






