قطری نشریاتی ادارے الجزیرہ کے مطابق پینٹاگون نے صدر ٹرمپ کے سامنے جو فہرست رکھی ہے، اس میں ایران کی جوہری تنصیبات اور بیلسٹک میزائل مراکز کو نمایاں طور پر شامل کیا گیا ہے۔

اس کے علاوہ پینٹاگون نے ایک متبادل آپشن کے طور پر سائبر حملوں کی تجویز بھی پیش کی ہے، جس پر غور کیا جا سکتا ہے، جب کہ امریکی بحریہ کو پہلے ہی ہائی الرٹ کر دیا گیا ہے۔

رپورٹ کے مطابق پینٹاگون نے صدر ٹرمپ کو وسیع نوعیت کے متعدد فوجی منصوبے پیش کیے ہیں، تاہم امریکی حکام کے مطابق بڑے پیمانے پر براہِ راست حملے کے بجائے محدود کارروائیاں زیادہ قابلِ عمل سمجھی جا رہی ہیں۔

حکام نے واضح کیا ہے کہ کسی بھی قسم کی ممکنہ فوجی کارروائی میں ابھی چند دن لگ سکتے ہیں، لیکن اگر ایسا قدم اٹھایا گیا تو اس کے جواب میں ایران کی جانب سے سخت اور بھرپور ردعمل کا خدشہ موجود ہے۔

رپورٹ میں مزید بتایا گیا ہے کہ امریکی فوجی حکام کے مطابق اس وقت امریکی بحریہ کے تین ڈسٹرائر جنگی جہاز جن میں میزائل فائر کرنے کی صلاحیت موجود ہے، مشرقِ وسطیٰ کے خطے میں تعینات ہیں۔ ان میں سے ایک جنگی جہاز یو ایس ایس روزویلٹ حالیہ دنوں میں بحیرۂ احمر میں داخل ہوا ہے۔

اس کے علاوہ امریکی بحریہ کی کم از کم ایک میزائل بردار آبدوز بھی خطے میں موجود ہے، جس کی تصدیق پینٹاگون حکام نے کی ہے۔ ان تعیناتیوں کو ایران کے ساتھ بڑھتی ہوئی کشیدگی کے تناظر میں دباؤ بڑھانے اور دفاعی تیاری کا حصہ قرار دیا جا رہا ہے۔

خیال رہے کہ یہ پیش رفت ایسے وقت سامنے آئی ہے جب امریکا اور ایران کے درمیان کشیدگی تیزی سے بڑھ رہی ہے۔

ایران پہلے ہی خبردار کر چکا ہے کہ اگر امریکا نے حملہ کیا تو وہ خطے میں امریکی مفادات اور فوجی اڈوں کو نشانہ بنائے گا، جب کہ خلیجی ممالک کسی بھی ممکنہ فوجی تصادم کے اثرات سے نمٹنے کے لیے سفارتی کوششیں تیز کر رہے ہیں۔