بدھ کے روز جاری ہونے والے ایک مختصر بیان میں نیتن یاہو کے دفتر نے تصدیق کی کہ انہوں نے امریکی صدر کی دعوت قبول کر لی ہے اور وہ اس امن کونسل کے رکن کے طور پر شامل ہوں گے، جس میں دنیا بھر کے رہنما شریک ہوں گے۔
Prime Minister s Office announcement:
— Prime Minister of Israel (@IsraeliPM) January 21, 2026
Prime Minister Benjamin Netanyahu has announced that he accepts the invitation of US President Donald Trump and will become a member of the Board of Peace, which is to be comprised of world leaders.
واضح رہے کہ ابتدائی طور پر اس امن کونسل کے قیام کا مقصد غزہ کی پٹی کی تعمیرِ نو کی نگرانی تھا، جو اسرائیل اور حماس کے درمیان دو سال سے زائد عرصے تک جاری رہنے والی جنگ کے باعث شدید طور پر تباہ ہو چکی ہے۔
تاہم صدر ٹرمپ کی جانب سے پیش کیے گئے مجوزہ منشور سے ظاہر ہوتا ہے کہ اس کونسل کو وسیع اختیارات دیے جا رہے ہیں، جن کا مقصد دنیا بھر میں مسلح تنازعات کے حل میں فعال کردار ادا کرنا ہے۔
منشور کے مطابق یہ کونسل استحکام کے فروغ، قابلِ اعتماد قانونی طرزِ حکمرانی کی بحالی اور ان علاقوں میں پائیدار امن کو یقینی بنانے کے لیے کام کرے گی جو تنازعات سے متاثر ہیں یا جہاں تنازع کا خطرہ موجود ہے۔
Israel objects to Trump-led Gaza peace board
— WION (@WIONews) January 18, 2026
Turkiye s Erdogan, Egypt s Sisi to join board
Pay $1 billion for permanent seat on board @BislaDiksha has more pic.twitter.com/8S8Re6HruC
اعلامیے میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ اس کونسل کی صدارت صدر ڈونلڈ ٹرمپ خود کریں گے، جب کہ وہ امریکا کے نمائندے کے طور پر بھی ایک علیحدہ حیثیت میں خدمات انجام دیں گے۔
واضح رہے کہ اس قبل اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو کے دفتر سے جاری بیان میں کہا گیا تھا کہ اس بورڈ کی تشکیل کے لیے اسرائیل سے کوئی رابطہ نہیں کیا گیا۔
بیان میں یہ بھی کہا گیا کہ اسرائیلی وزیرِ خارجہ گڈیون سار اس معاملے کو امریکی وزیرِ خارجہ مارکو روبیو کے ساتھ اٹھائیں گے۔






