ایک بیان میں امریکی صدر نے کہا کہ ایران کی جانب بڑی فورس کی نقل و حرکت دیکھی جا رہی ہے، جس کے پیشِ نظر امریکی فوجی اثاثے مشرقِ وسطیٰ منتقل کیے جا رہے ہیں،قدامات احتیاطی نوعیت کے ہیں اور خطے میں استحکام برقرار رکھنے کے لیے کیے جا رہے ہیں۔
انہوں نے مزید بتایا کہ گرین لینڈ کی سکیورٹی کے معاملے پر نیٹو اتحادیوں کے ساتھ مل کر کام کیا جائے گا، تاکہ عالمی سطح پر دفاعی تعاون کو مزید مضبوط بنایا جا سکے۔
انہوں نے عالمی سفارتی سرگرمیوں پر بات کرتے ہوئے کہا کہ وہ آئندہ ماہ اپریل میں چین کا دورہ کریں گے، جبکہ سال کے اختتام پر چینی صدر کے امریکا کے دورے کی بھی توقع ہے، دونوں ممالک کے درمیان تعلقات اور اہم عالمی امور پر بات چیت کی جائے گی۔
یوکرین جنگ کے حوالے سے صدر ٹرمپ نے کہا کہ یوکرینی صدر ولادیمیر زیلنسکی اور روسی صدر ولادیمیر پیوتن دونوں کسی معاہدے کے خواہاں ہیں، اور جلد واضح ہو جائے گا کہ امن کے امکانات کس حد تک موجود ہیں۔
امریکی صدر کے اس بیان کو عالمی سفارتی منظرنامے میں ایک اہم پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے، جس کے اثرات مشرقِ وسطیٰ سمیت دیگر خطوں پر بھی مرتب ہو سکتے ہیں۔







