ڈونلڈ ٹرمپ کا کہنا تھا کہ نیٹو کی جانب سے باہمی دفاع کی شق صرف ایک مرتبہ استعمال کی گئی، جو 11 ستمبر کے دہشت گرد حملوں کے بعد عمل میں آئی، جب رکن ممالک نے افغانستان میں ہزاروں فوجی تعینات کیے۔ تاہم ان کے بقول اتحادی ممالک کی شمولیت محدود نوعیت کی تھی۔
Donald Trump has claimed NATO troops stayed "a little off the front lines" in Afghanistan. It s hard to know whether he s ignorant or just doesn t really care
— Sky News (@SkyNews) January 23, 2026
Analysis by US correspondent @Stone_SkyNewshttps://t.co/4kcz7X6rEj
جمعرات کو ایک انٹرویو میں ٹرمپ نے کہا کہ وہ یقین سے نہیں کہہ سکتے کہ اگر امریکا کو کسی بڑے خطرے کا سامنا ہو تو نیٹو اس کے دفاع کے لیے امتحان پر پورا اترے گا۔
ٹرمپ نے کہا کہ ہمیں کبھی واقعی ان کی ضرورت نہیں پڑی۔ وہ یہ کہیں گے کہ انہوں نے افغانستان میں کچھ فوجی بھیج، اور واقعی بھیجے، لیکن وہ محاذِ جنگ سے کچھ فاصلے پر، ذرا پیچھے رہے۔
بعد ازاں جمعرات کی شب اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر جاری بیان میں ڈونلڈ ٹرمپ نے لکھا کہ شاید امریکا کو نیٹو کو آزمانا چاہیے تھا، آرٹیکل 5 نافذ کر کے نیٹو کو اس بات پر مجبور کرنا چاہیے تھا کہ وہ امریکا آ کر جنوبی سرحد کو غیر قانونی تارکینِ وطن کی مزید دراندازی سے بچاتا، تاکہ بڑی تعداد میں بارڈر پٹرول کے اہلکار دیگر ذمہ داریوں کے لیے دستیاب ہو سکتے۔
JUST IN: TRUMP ON NATO:
— Sulaiman Ahmed (@ShaykhSulaiman) January 22, 2026
We have never needed them. We have never needed asked anything of them.
You know they say they sent troops to Afghanistan, and they did.
They stayed a little back, little off the frontlines. pic.twitter.com/TyCAcP9j48
غیر ملکی میڈیا کے مطابق افغانستان میں 20 سالہ جنگ کے دوران مجموعی طور پر 3,486 نیٹو فوجی ہلاک ہوئے، جن میں 2,461 امریکی فوجی شامل تھے۔ اس جنگ میں 457 برطانوی فوجی بھی ہلاک ہوئے، جب کہ تقریباً 2,000 دیگر فوجی اور شہری اہلکار زخمی ہوئے۔






