برطانوی خبر رساں ادارے روئٹرز کے مطابق حکام کا کہنا ہے کہ یہ واقعہ شہر منیاپولس میں سنیچر کے روز اس وقت پیش آیا جب ایجنٹس نے ایک مبینہ مسلح شخص کو حراست میں لینے کی کوشش کی اور مزاحمت پر فائرنگ کی گئی۔

تاہم مقامی رہنماؤں نے اس سرکاری مؤقف پر سوالات اٹھائے ہیں کیونکہ سوشل میڈیا پر موجود ویڈیوز حکام کے بیان سے متصادم دکھائی دیتی ہیں۔

مارے جانے والے شخص کی شناخت 37 سالہ ایلیکس پریٹی کے نام سے ہوئی ہے جو منیاپولس کے ایک ہسپتال میں بطور نرس کام کرتا تھا۔

رپورٹ کے مطابق سامنے آنے والی ویڈیو میں ایلیکس کو گلی میں کھڑے ہو کر اپنے موبائل فون سے ایجنٹس کی ویڈیو بناتے دیکھا جا سکتا ہے۔

ویڈیو میں ایک ایجنٹ کو مظاہرین پر اسپرے کرتے دیکھا جا سکتا ہے، جب ایلیکس اس عمل کو روکنے کی کوشش کرتا ہے تو کئی ایجنٹس اسے زمین پر گرا کر مبینہ طور پر تشدد کا نشانہ بناتے ہیں۔

اسی دوران ایک ایجنٹ اسلحہ نکالتا ہے اور ایلیکس پر متعدد فائر کرتا ہے، جس کے بعد اس کی لاش گلی میں پڑی نظر آتی ہے۔

فائرنگ کے بعد مظاہرین میں شدید اشتعال پھیل گیا اور سینکڑوں افراد نے نقاب پوش ایجنٹس کی جانب بڑھنے کی کوشش کی، جس پر آنسو گیس اور فلیش گرینیڈ استعمال کیے گئے۔

ریاستی حکام پہلے ہی ایک سابقہ واقعے کے باعث صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی انتظامیہ سے اختلافات رکھتے تھے اور اس تازہ واقعے کی بھی سخت مذمت کر رہے ہیں۔

اس سے قبل سات جنوری کو بھی ایک ایسا ہی واقعہ پیش آیا تھا جس میں امیگریشن ایجنٹس نے 37 سالہ امریکی شہری رین گڈ کو گولی مار کر ہلاک کر دیا تھا۔

اس واقعے کے بعد ٹرمپ انتظامیہ نے امیگریشن ایجنٹ کی حمایت کرتے ہوئے مؤقف اختیار کیا تھا کہ فائرنگ اپنے دفاع میں کی گئی۔

انتظامیہ نے اس واقعے کی تحقیقات میں مقامی حکام کو شامل کرنے سے بھی انکار کر دیا تھا۔

امریکی محکمہ ہوم لینڈ سکیورٹی کی سیکریٹری کرسٹی نوم کا کہنا ہے کہ ایلیکس نے ایک چھاپے کے دوران ایجنٹس پر حملہ کیا، تاہم یہ واضح نہیں کیا گیا کہ آیا اس وقت اس کے پاس اسلحہ موجود تھا یا نہیں۔

واقعے کے بعد پریس کانفرنس میں کرسٹی نوم نے الزام عائد کیا کہ ایلیکس وہاں پرامن احتجاج کے لیے نہیں بلکہ تشدد کی نیت سے پہنچا تھا۔