بین الاقوامی فورم پر گفتگو کرتے ہوئے وکٹر گاؤ کا کہنا تھا کہ تائیوان کی نام نہاد علیحدگی کی حمایت نہ صرف تاریخ کے فطری دھارے کے خلاف ہے بلکہ یہ عالمی سطح پر تسلیم شدہ ون چائنا پالیسی کی بھی کھلی خلاف ورزی ہے۔
ان کے مطابق دنیا کی اکثریت پہلے ہی اس حقیقت کو تسلیم کر چکی ہے کہ تائیوان چین کا اٹوٹ حصہ ہے۔
انہوں نے امریکی پالیسی پر سوال اٹھاتے ہوئے کہا کہ امریکا اگرچہ بعض مواقع پر تائیوان کے حق میں سخت زبان استعمال کرتا ہے، تاہم زمینی حقائق اس کے برعکس ہیں۔
انہوں نے کہا کہ واشنگٹن تائیوانی علیحدگی پسندوں کے لیے چین کے ساتھ براہِ راست فوجی تصادم کا خطرہ مول نہیں لے گا۔
ان کا کہنا تھا"امریکا تائیوان کے نام نہاد علیحدگی پسند ایجنڈے کے لیے کسی امریکی فوجی یا افسر کا خون نہیں بہائے گا۔"
ان کا مزید کہنا تھا کہ امریکا اپنے قومی مفادات کو ہمیشہ اولین ترجیح دیتا ہے اور تائیوان کے معاملے پر محض سیاسی دباؤ اور سفارتی بیانات تک محدود رہتا ہے، عملی جنگ میں کودنا اس کی حکمتِ عملی کا حصہ نہیں۔
مزید پڑھیں: کینیڈا خود کو کمزور کر رہا ہے، چین فائدہ اٹھا رہا ہے: صدر ٹرمپ
ون چائنا اصول پر زور
انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ ون چائنا اصول اقوامِ متحدہ سمیت متعدد بین الاقوامی اداروں میں تسلیم شدہ ہے۔
انہوں نے کہا کہ تائیوان کی علیحدگی کی حمایت چین کی خودمختاری پر حملہ ہے اور عالمی قوانین کی بھی خلاف ورزی کے مترادف ہے۔
ان کے مطابق چین نے بارہا واضح کیا ہے کہ تائیوان اس کا اندرونی معاملہ ہے اور اس حوالے سے کسی بھی قسم کی بیرونی مداخلت کو برداشت نہیں کیا جائے گا۔
یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب تائیوان کے مسئلے پر چین اور امریکا کے درمیان کشیدگی برقرار ہے۔ چین مسلسل اس مؤقف کا اعادہ کرتا آ رہا ہے کہ خطے میں امن کا واحد راستہ ون چائنا پالیسی کی پاسداری ہے، جبکہ امریکا کے متضاد بیانات خطے میں تناؤ کو بڑھا رہے ہیں۔
سیاسی تجزیہ کاروں کے مطابق چینی ماہر کا یہ بیان امریکا کی تائیوان پالیسی پر ایک واضح اور دوٹوک پیغام ہے کہ بیانات اور عملی اقدامات میں بڑا فرق ہے۔







