ایرانی سرکاری میڈیا کے مطابق اپنے بیان میں سپریم لیڈر کا کہنا تھا کہ ہم جنگ کے آغاز کرنے والے نہیں ہیں اور کسی ملک پر حملہ نہیں کرنا چاہتے، لیکن اگر امریکا ایران پر حملہ کرے یا اسے نقصان پہنچائے تو ایرانی قوم بھرپور جواب دے گی۔
انہوں نے کہا کہ امریکی بیانات اور بحری طاقت کے مظاہرے ایرانی عوام کو خوفزدہ نہیں کر سکتے۔
ایران نے کہا ہے کہ وہ منصفانہ مذاکرات کے لیے تیار ہے جو اس کی دفاعی صلاحیت کو محدود نہ کریں۔ موجودہ وقت میں امریکا کی بحریہ کے پاس مشرق وسطیٰ میں چھ ڈسٹرائرز، ایک ایئرکرافٹ کیریئر اور تین لٹرل کومبیٹ شپ ہیں۔
سپریم لیڈر خامنہ ای نے ایرانی عوام کو یقین دلایا کہ وہ امریکی دھمکیوں سے خوفزدہ نہیں ہوں گے۔ انہوں نے حالیہ احتجاجات کو انقلاب سے تشبیہ دی اور کہا کہ اس کا مقصد ملک کے حکومتی مراکز پر حملہ کرنا تھا۔
دوسری جانب ایران کے جنرل امیر ہتامی نے بھی جارحانہ موقف اپناتے ہوئے کہا کہ ایرانی فوج مکمل طور پر دفاعی تیاری میں ہے اور دشمن کی حرکتوں پر گہری نظر رکھے ہوئے ہے۔ کسی بھی غلطی کی صورت میں خطے کی سیکیورٹی خطرے میں پڑ سکتی ہے۔
یہ بھی پڑھیں: ملک گیر احتجاج میں ڈونلڈ ٹرمپ، بنیامن نیتن یاہو اور یورپی طاقتوں نے کشیدگی کو ہوا دی، ایران
تہران کی پارلیمنٹ میں بھی کشیدہ ماحول دیکھا گیا، جہاں اسپیکر نے یورپی یونین کی فوجی طاقتوں کو دہشت گرد گروپ قرار دیا۔ یہ اس کے بعد ہوا ہے کہ یورپی یونین نے ایران کی اسلامی انقلابی گارڈ کور (آئی آر جی سی) کو احتجاج پر مبنی کریک ڈاؤن کی وجہ سے دہشت گرد تنظیم قرار دیا۔
ایران کے دیگر اعلیٰ سکیورٹی اہلکار علی لاریجانی نے ایک نرم رویہ اختیار کیا اور کہا کہ مذاکرات کے ڈھانچے پر کام جاری ہے، تاہم خامنہ ای نے امریکی ساتھ براہِ راست مذاکرات کا امکان مسترد کیا ہے۔
خیال رہے کہ یہ بیان امریکا اور ایران کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی کے دوران سامنے آیا ہے، جس میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کو ہراساں کرنے اور جوہری معاہدے کی پابندی نہ کرنے کی صورت میں فوجی کارروائی کی دھمکی دی تھی۔
مزید یہ کہ ایران میں گزشتہ دنوں دو دھماکے بھی ہوئے، ایک بندر عباس بندرگاہ پر جس میں چار سالہ بچی ہلاک اور 14 زخمی ہوئے، جب کہ اہواز میں ہونے والے دھماکے میں پانچ افراد جان کی بازی ہار گئے۔ حکومت نے اس کی ذمہ داری قبول نہیں کی اور دعویٰ کیا کہ کوئی فوجی رہنما ہدف نہیں تھا۔







