وائٹ ہاؤس میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے صدر ٹرمپ نے کہا کہ یہ فیصلہ کئی ماہ پر محیط سخت اور پیچیدہ مذاکرات کے بعد سامنے آیا ہے، جن کے دوران واشنگٹن نے نئی دہلی پر معاشی دباؤ برقرار رکھا،امریکا چاہتا تھا کہ بھارت اپنی تجارتی اور توانائی پالیسیوں میں بعض بنیادی تبدیلیاں کرے، جن پر اب اتفاق ہو گیا ہے۔
ذرائع کے مطابق، نئے معاہدے کے تحت بھارت نے روس سے تیل کی درآمدات کم کرنے یا مرحلہ وار ختم کرنے پر آمادگی ظاہر کی ہے، جبکہ اس کے بدلے میں وہ امریکا سے بڑی مقدار میں زرعی، دفاعی اور صنعتی مصنوعات خریدے گا۔ بتایا گیا ہے کہ بھارت آئندہ چند برسوں میں امریکا سے تقریباً 500 ارب ڈالر مالیت کی اشیاء درآمد کرنے کا عندیہ دے چکا ہے۔
معاہدے کے تحت بھارتی مصنوعات پر مجموعی طور پر عائد ٹیرف، جو اس سے قبل مختلف مدات میں تقریباً 50 فیصد تک پہنچ چکا تھا، اب کم ہو کر 18 فیصد رہ گیا ہے۔ ماہرین کے مطابق، اگرچہ یہ شرح بعض ایشیائی ممالک کے مقابلے میں نسبتاً بہتر ہے، تاہم بھارت نے اس رعایت کے بدلے اپنی توانائی اور خارجہ پالیسی میں اہم فیصلے کیے ہیں۔
سفارتی حلقوں کا کہنا ہے کہ یہ معاملہ صرف تجارت تک محدود نہیں رہا۔ اطلاعات کے مطابق بھارت نے ایران کے ساتھ چابہار بندرگاہ سے متعلق مالی تعاون کو آئندہ بجٹ میں برقرار نہ رکھنے پر بھی غور کیا ہے، جسے بعض تجزیہ کار امریکی دباؤ کے تناظر میں دیکھ رہے ہیں۔ تاہم بھارتی حکومت نے اس حوالے سے باضابطہ مؤقف اختیار نہیں کیا۔
توانائی کے شعبے سے وابستہ ماہرین نے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ روس سے نسبتاً سستے خام تیل کی درآمد میں کمی بھارت کی معیشت پر اضافی بوجھ ڈال سکتی ہے، کیونکہ امریکا یا دیگر ممالک سے تیل کی قیمتیں عالمی منڈی میں زیادہ رہتی ہیں۔ اس کے باوجود بھارتی حکام کا کہنا ہے کہ امریکا کے ساتھ تجارتی رسائی اور برآمدات میں اضافے سے طویل مدت میں معیشت کو فائدہ پہنچ سکتا ہے۔
بھارتی اپوزیشن جماعتوں نے اس معاہدے پر تنقید کرتے ہوئے الزام عائد کیا ہے کہ حکومت نے قومی مفادات پر سمجھوتہ کیا ہے، جبکہ حکومتی حلقے اس فیصلے کو عالمی تجارت میں بھارت کی پوزیشن مضبوط بنانے کی کوشش قرار دے رہے ہیں۔
امریکا اور بھارت کے درمیان آئندہ ہفتوں میں تکنیکی سطح کے مزید مذاکرات متوقع ہیں، جن میں معاہدے کی تفصیلات کو عملی جامہ پہنانے، توانائی سپلائی چین میں تبدیلی اور محصولات سے متعلق امور پر بات چیت کی جائے گی۔ مبصرین کے مطابق یہ معاہدہ نہ صرف دونوں ممالک کے اقتصادی تعلقات بلکہ خطے کی جیو اسٹریٹجک صورتحال پر بھی اثر انداز ہو سکتا ہے۔







