بی این پی قیادت اس بڑے اجتماع کو اس بات کا ثبوت قرار دے رہی ہے کہ پارٹی، جو سابق وزیراعظم شیخ حسینہ کے 15 سالہ دور میں دباؤ اور پابندیوں کا شکار رہی، اب دوبارہ منظم ہو کر 12 فروری کے عام انتخابات میں اقتدار میں واپسی کی پوزیشن میں ہے۔

عبوری حکومت، جس کی سربراہی نوبیل انعام یافتہ محمد یونس کر رہے ہیں، نے گزشتہ برس عوامی لیگ پر سیاست میں حصہ لینے پر پابندی عائد کر دی تھی، جس کے بعد بی این پی کو انتخابی دوڑ میں سبقت حاصل ہو گئی۔

اس کا بڑا حریف جماعتِ اسلامی ہے، جس نے نیشنل سٹیزن پارٹی (این سی پی) سے اتحاد کر رکھا ہے۔ این سی پی 2024 کی طلبہ تحریک کے سابق رہنماؤں نے قائم کی تھی جس نے حسینہ حکومت کا تختہ الٹ دیا تھا۔


25 دسمبر کو تقریباً 17 سالہ جلاوطنی کے بعد برطانیہ سے وطن واپسی کے بعد 60 سالہ طارق رحمان بی این پی کی انتخابی مہم کا مرکز رہے۔ ان کی موجودگی نے پارٹی کارکنوں اور حامیوں میں اعتماد بحال کیا، خصوصاً ایسے وقت میں جب پارٹی کو گرفتاریوں، اندرونی اختلافات اور عوام سے فاصلے کا سامنا رہا۔

ان کی واپسی کی علامتی اہمیت (سامنے آ کر قیادت کرنا) نے اس بنیاد کو متحرک کیا جو ان کے والد، سابق فوجی سربراہ اور بی این پی کے بانی جنرل ضیاء الرحمٰن کی میراث سے جڑی ہے۔

تاہم جوش و خروش کے ساتھ بے چینی بھی بڑھتی دکھائی دیتی ہے۔ مبصرین کے مطابق یہ انتخابی مہم امید اور شکوک دونوں سے عبارت ہے۔

یہ بھی پڑھیں: بنگلہ دیش: عام انتخابات میں جماعت اسلامی کی پوزیشن کیسی ہے؟

طارق رحمان نے برسوں لندن سے پارٹی چلائی، جبکہ بنگلہ دیش میں ان کی والدہ اور دیگر سینئر قیادت کو عدالتی مقدمات اور پابندیوں کا سامنا تھا۔ واپسی نے قیادت کو زمینی سطح پر تو لایا، مگر تنظیمی نظم و ضبط قائم کرنا ایک بڑا چیلنج بن گیا۔

300 میں سے 79 حلقوں میں 92 امیدوار پارٹی نامزد امیدواروں کے مقابل کھڑے ہیں، جو مقامی سطح پر دھڑابندی کی عکاسی کرتا ہے۔ جہانگیر نگر یونیورسٹی کے سیاسیات کے پروفیسر المسعود حسن الزمان کے مطابق یہ شرح ماضی کے مقابلے میں زیادہ ہے۔

شفافیت انٹرنیشنل بنگلہ دیش کی ایک حالیہ رپورٹ میں یہ بھی سامنے آیا کہ 5 اگست 2024 کے بعد درج ہونے والے سیاسی تشدد کے 91 فیصد واقعات میں بی این پی کارکن ملوث پائے گئے، جس سے پارٹی کے اندر کنٹرول پر سوال اٹھتے ہیں۔


سیاسی تجزیہ کار دلارا چوہدری کہتی ہیں کہ نظم و ضبط کی کمی اس مہم میں واضح رہی۔ خاندانی وراثت انتخاب میں فائدہ بھی ہے مگر توقعات اور دباؤ بھی بڑھاتی ہے اور طارق رحمان تاحال اپنے والدین جیسی کرشماتی قیادت ثابت نہیں کر سکے، یہ انتخاب طارق رحمان کی قیادت کا پہلا فیصلہ کن امتحان ہے۔

طارق رحمان کی تقاریر میں بعض حقائق کی غلطیوں نے بھی تنقید کو جنم دیا۔ مثال کے طور پر فریدپور میں سویابین کی پیداوار سے متعلق دعویٰ کو فوری طور پر چیلنج کیا گیا۔ سوشل میڈیا پر ان کے بعض وعدوں کو سابق بی این پی-جماعت حکومت (2001-06) کے دہرانے سے تعبیر کیا گیا۔

مزید پڑھیں:  بنگلہ دیش میں عام انتخابات ، پاکستان اور انڈیا کی دلچسپی کے لیے کیا؟

مبصرین کے مطابق تحقیق اور تیاری کی کمی ان کے قومی قائد کے تاثر کو متاثر کرتی ہے۔ چوہدری کے مطابق  فیملی کارڈ  کے ذریعے خواتین اور بے روزگاروں کو ماہانہ نقد رقم دینے جیسے وعدوں کی مالی پائیداری بھی سوالیہ نشان ہے۔ اسی طرح بدعنوانی کے خاتمے کے دعوؤں کے باوجود قرض نادہندگان کو ٹکٹ دینے پر بھی تنقید ہو رہی ہے۔

پیر کی شب قوم سے خطاب میں طارق رحمان نے ماضی کی کوتاہیوں کا اعتراف کیا اور احتساب، قانون کی بالادستی اور بدعنوانی کے خلاف سخت موقف کا وعدہ کیا۔

سیاسی مبصر خان صبیل بن رفیق کے مطابق 18 سے 26 سال کے نوجوانوں نے بی این پی کا دورِ حکومت نہیں دیکھا اور ان میں پارٹی سے متعلق بدعنوانی اور بھتہ خوری کا تاثر راسخ ہے، جسے بدلنا مشکل ثابت ہو رہا ہے۔


بین الاقوامی کرائسس گروپ کے تھامس کین بھی کہتے ہیں کہ اگرچہ حسینہ دور جیسی سختیوں کی واپسی کا امکان کم ہے، مگر بی این پی کے بارے میں عوامی تصورات اعتماد پر اثرانداز ہو رہے ہیں۔

پارٹی کے اندر سے یہ شکوہ بھی سامنے آیا ہے کہ لندن سے آئے قریبی مشیروں کو زیادہ اہمیت دی جا رہی ہے، جس سے مقامی قیادت میں بے چینی پائی جاتی ہے۔ ناقدین کے مطابق وفاداری کو اہلیت پر ترجیح دینا مستقبل کی حکمرانی کے لیے بڑا چیلنج بن سکتا ہے۔

کیا خاندانی سیاست رکاوٹ بنے گی؟

ڈھاکہ یونیورسٹی کے پروفیسر عاصف محمد شاہان کے مطابق طارق رحمان ایک مشکل پوزیشن میں ہیں، بڑی جیت نہ ہوئی تو ناکامی اور واضح جیت ہوئی تو اسے متوقع قرار دیا جائے گا۔ اگرچہ بی این پی قیادت خاندانی سیاست کو جنوبی ایشیا کی روایت کہتی ہے، مگر مبصرین کے نزدیک یہی وراثت نوجوان ووٹرز میں سوالات بھی پیدا کرتی ہے۔

بالآخر یہ انتخاب طارق رحمان کے لیے صرف اقتدار کی دوڑ نہیں بلکہ اس بات کا فیصلہ ہے کہ آیا ان کی واپسی ماضی سے حقیقی انحراف ثابت ہوگی یا محض ایک نیا چہرہ پرانی سیاست کے ساتھ۔


طارق رحمان کے بقول اگر ماضی میں کوئی غیر ارادی غلطیاں ہوئیں تو میں قوم سے معذرت کرتا ہوں۔ ہم سیکھ کر آج کے لیے بھی اور آنے والی نسلوں کے لیے بھی ایک محفوظ بنگلہ دیش بنانا چاہتے ہیں۔

نوٹ: یہ غیرملکی نشریاتی ادارے الجزیرہ کی اسٹوری کا اردو ترجمہ ہے۔