فوکس نیوز کو دیے گئے ایک انٹرویو میں امریکی صدر نے کہا کہ دونوں ممالک کے درمیان صورتحال انتہائی خطرناک حد تک پہنچ چکی تھی اور عسکری جھڑپوں کے دوران 10 طیارے مار گرائے گئے تھے۔ انہوں نے کہا کہ حالات اس نہج پر تھے جہاں کوئی بھی غلط قدم پورے خطے کو تباہی کی طرف لے جا سکتا تھا۔

ان  کا کہنا تھا کہ انہوں نے محصولات (ٹیرف) کو بطور سفارتی دباؤ استعمال کرتے ہوئے دونوں ممالک کو جنگ بندی پر آمادہ کیا۔ ان کے بقول، “میں نے واضح پیغام دیا کہ اگر لڑائی نہ رکی تو امریکا سخت تجارتی اقدامات کرے گا۔ میں لوگوں کو مرتے ہوئے نہیں دیکھ سکتا، اسی لیے میں نے مداخلت کی۔”

انہوں نے دعویٰ کیا کہ انہوں نے مجموعی طور پر 8 بین الاقوامی تنازعات ختم کرائے، جن میں سے کم از کم 6 معاملات میں ٹیرف کو بطور ہتھیار استعمال کیا گیا۔ انہوں نے کہا، “ٹیرف محض معاشی آلہ نہیں بلکہ ایک مضبوط سفارتی ہتھیار بھی ہے، اور میں نے اسے جنگ روکنے کے لیے استعمال کیا۔”

ان کے مطابق پاک بھارت کشیدگی اس قدر بڑھ چکی تھی کہ عالمی برادری بھی تشویش میں مبتلا تھی،ہ دونوں ممالک ایٹمی طاقت ہیں اور کسی بھی قسم کی براہِ راست جنگ نہ صرف جنوبی ایشیا بلکہ پوری دنیا کے لیے تباہ کن ثابت ہو سکتی تھی۔

مزید پڑھیں: طویل تجارتی جنگ کے بعد بھارت اور امریکا کے مابین تجارتی معاہدہ طے پاگیا

انہوں  نے مزید دعویٰ کیا کہ وزیرِاعظم شہباز شریف نے ان کے کردار کو سراہتے ہوئے اعتراف کیا کہ امریکی کوششوں سے ممکنہ جوہری تصادم ٹل گیا۔ ٹرمپ کے بقول، “میں سمجھتا ہوں کہ ہم نے کم از کم ایک کروڑ جانیں بچائیں۔”

انہوں  نے اپنی خارجہ پالیسی کے دیگر پہلوؤں کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ انہوں نے آذربائیجان اور آرمینیا کے درمیان تین دہائیوں سے جاری تنازع بھی محض ڈیڑھ دن میں ختم کرایا۔ ان کے مطابق انہوں نے متعلقہ قیادت کو دوٹوک پیغام دیا کہ اگر جنگ جاری رہی تو امریکا تجارتی پابندیاں عائد کرے گا، جس کے بعد معاملات مذاکرات کی میز پر آ گئے۔

سیاسی مبصرین کے مطابق ٹرمپ کا یہ بیان ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب وہ اپنی خارجہ پالیسی کی کامیابیوں کو اجاگر کر رہے ہیں۔ تاہم پاک بھارت کشیدگی کے حوالے سے ان کے دعوؤں پر تاحال نئی دہلی اور اسلام آباد کی جانب سے کوئی باضابطہ ردعمل سامنے نہیں آیا۔

دفاعی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ جنوبی ایشیا میں کشیدگی کی ہر لہر عالمی طاقتوں کی توجہ کا مرکز بن جاتی ہے، کیونکہ دونوں ممالک کے پاس جوہری صلاحیت موجود ہے۔ ماہرین کے مطابق کسی بھی قسم کی عسکری مہم جوئی کے اثرات نہ صرف خطے بلکہ عالمی معیشت اور سلامتی پر بھی مرتب ہو سکتے ہیں۔

واضح رہے کہ ماضی میں بھی امریکی قیادت کی جانب سے پاک بھارت تعلقات میں بہتری کے لیے ثالثی کی پیشکش کی جاتی رہی ہے، تاہم دونوں ممالک عموماً دوطرفہ مذاکرات کو ہی ترجیح دیتے آئے ہیں۔