جماعت اسلامی کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا کہ ہم انتخابات کے نتائج کے عمل سے مطمئن نہیں ہیں۔جماعتی قیادت نے کارکنان اور عوام سے صبر و تحمل کا مظاہرہ کرنے کی اپیل بھی کی ہے۔

دوسری جانب بنگلہ دیش نیشنلسٹ پارٹی (بی این پی) نے انتخابات میں واضح برتری کا دعویٰ کرتے ہوئے حکومت سازی کی تیاری شروع کر دی ہے۔

مقامی میڈیا کے مطابق غیر سرکاری نتائج میں بی این پی اور اس کے اتحادیوں کو نمایاں اکثریت حاصل ہوئی ہے اور وہ دو تہائی اکثریت کی جانب بڑھ رہے ہیں۔

میڈیا رپورٹس کے مطابق 299 نشستوں میں سے بی این پی اتحاد کو 209 سے زائد نشستوں پر کامیابی یا برتری حاصل ہے، جب کہ جماعت اسلامی اور اس کے اتحادیوں کے حصے میں تقریباً 68 سے 70 نشستیں آئی ہیں۔

الیکشن کمیشن کے مطابق سرکاری اعداد و شمار میں بی این پی کو 181 نشستوں پر جماعت اسلامی کو 61 پر جب کہ دیگر جماعتوں کو چند نشستوں پر برتری حاصل ہے۔ حتمی اور سرکاری نتائج کا اعلان متوقع ہے۔

بی این پی، جو تقریباً دو دہائیوں بعد دوبارہ اقتدار میں آ رہی ہے، نے اپنی کامیابی پر عوام کا شکریہ ادا کیا ہے اور اپیل کی ہے کہ ملک کی ترقی اور استحکام کے لیے خصوصی دعائیں کی جائیں۔

پارٹی قیادت نے واضح کیا ہے کہ واضح اکثریت کے باوجود کوئی جشن یا ریلی منعقد نہیں کی جائے گی بلکہ عوام عبادت گاہوں میں جا کر شکر ادا کریں۔

بی این پی کی قیادت سابق وزیر اعظم خالدہ ضیا کے صاحبزادے طارق رحمان کر رہے ہیں، جو وزارت عظمیٰ کے مضبوط امیدوار سمجھے جا رہے ہیں۔

ان کی انتخابی مہم میں غریب خاندانوں کی معاونت، بدعنوانی کے خاتمے، غیر ملکی سرمایہ کاری کے فروغ اور وزارت عظمیٰ کی مدت کو محدود کرنے جیسے نکات شامل تھے۔

ادھر جماعت اسلامی کے سربراہ شفیق الرحمان نے شکست تسلیم کرتے ہوئے کہا ہے کہ ان کی جماعت ’مخالفت برائے مخالفت‘ کی سیاست نہیں کرے گی بلکہ مثبت اور تعمیری اپوزیشن کا کردار ادا کرے گی۔

جمعرات کو منعقد ہونے والے انتخابات کو ملک میں استحکام کے لیے انتہائی اہم قرار دیا جا رہا ہے، کیونکہ 2024 میں شیخ حسینہ کی حکومت کے خاتمے کے بعد ملک سیاسی بے یقینی اور احتجاجی تحریکوں کی لپیٹ میں رہا۔

مبصرین کے مطابق واضح اکثریت نئی حکومت کو اصلاحات اور قانون سازی کے لیے مضبوط مینڈیٹ فراہم کرے گی۔

انتخابات کے ساتھ ایک آئینی ریفرنڈم بھی منعقد ہوا جس میں وزیر اعظم کی مدت کو دو ادوار تک محدود کرنے، نگران حکومت کے قیام اور عدلیہ کو مزید مضبوط بنانے سمیت دیگر اصلاحات پر عوامی رائے لی گئی۔ غیر سرکاری اطلاعات کے مطابق اکثریت نے اصلاحات کے حق میں ووٹ دیا ہے، تاہم سرکاری نتائج کا انتظار ہے۔

عالمی رہنماؤں کی جانب سے بھی بی این پی کی متوقع کامیابی پر مبارک بادوں کا سلسلہ شروع ہو گیا ہے، جب کہ پاکستانی قیادت نے بھی بنگلہ دیش کی نئی قیادت کے ساتھ تعاون بڑھانے کے عزم کا اظہار کیا ہے۔

سیاسی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ واضح انتخابی نتیجہ بنگلہ دیش میں جاری سیاسی کشیدگی کے خاتمے اور معاشی استحکام کی جانب ایک اہم قدم ثابت ہو سکتا ہے۔