انہوں نے ایران میں ممکنہ نظام کی تبدیلی کو “بہترین چیز” قرار دیا اور جوہری معاہدہ نہ ہونے کی صورت میں سنگین نتائج کی وارننگ دی۔
شمالی کیرولائنا کے فوجی اڈے فورٹ بریگ سے روانگی کے موقع پر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے صدر ٹرمپ نے کہا کہ امریکا ایران کے ساتھ معاہدہ چاہتا ہے اور توقع ہے کہ مذاکرات کامیاب ہوں گے، تاہم ناکامی کی صورت میں حالات ایران کے لیے “بہت برے” ہو سکتے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ ایران میں اقتدار کی تبدیلی ایک مثبت پیش رفت ہو سکتی ہے اور دعویٰ کیا کہ ایرانی قیادت گزشتہ 47 برس سے صرف بیانات تک محدود رہی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ خطے میں امریکی عسکری موجودگی میں اضافہ اسی تناظر میں کیا جا رہا ہے۔
صدر ٹرمپ نے اعلان کیا کہ دوسرا طیارہ بردار بحری جہاز مشرقِ وسطیٰ روانہ کیا جا رہا ہے اور اگر ایران نے جوہری معاہدہ نہ کیا تو امریکا کو اس بحری بیڑے کی ضرورت پڑ سکتی ہے۔ انہوں نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم پر جہاز کی ایک فضائی تصویر بھی شیئر کی۔
غیر ملکی میڈیا رپورٹس کے مطابق دنیا کا سب سے بڑا طیارہ بردار بحری جہاز یو ایس ایس جیرالڈ آر فورڈ کو کیریبین سے مشرقِ وسطیٰ منتقل کیا جا رہا ہے، جہاں وہ پہلے سے موجود یو ایس ایس ابراہام لنکن اور اس کے ہمراہ گائیڈڈ میزائل ڈسٹرائرز میں شامل ہوگا۔
یہ اعلان اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو سے ملاقات کے بعد سامنے آیا، جس میں ایران کے جوہری پروگرام اور خطے کی سیکیورٹی صورتحال پر بات چیت کی گئی تھی۔
دوسری جانب خلیجی عرب ممالک نے خبردار کیا ہے کہ ایران کے خلاف کسی بھی ممکنہ فوجی کارروائی سے خطے میں ایک اور بڑی جنگ چھڑ سکتی ہے، جس کے اثرات پورے مشرقِ وسطیٰ پر مرتب ہوں گے۔
امریکی انتظامیہ ایک طرف ایران پر یورینیم افزودگی روکنے کے لیے دباؤ بڑھا رہی ہے اور دوسری جانب مذاکرات جاری رکھنے کا عندیہ بھی دے رہی ہے، تاہم حالیہ بیانات اور عسکری نقل و حرکت سے کشیدگی میں اضافہ دیکھا جا رہا ہے۔







