عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق دنیا بھر سے آنے والے سفارتی وفود واشنگٹن پہنچ چکے ہیں اور اس تاریخی موقع پر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے ساتھ یادگار تصاویر بنوائی گئی ہیں۔

اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے صدر ٹرمپ نے ایک بار پھر پاک انڈیا جنگ کا ذکر کیا اور کہا کہ اس جنگ کے دوران گیارہ طیارے گرائے گئے، اب تک آٹھ جنگیں روکی گئی ہیں اور نویں جنگ روکنے کی تیاری جاری ہے۔

ڈونلڈ ٹرمپ نے بتایا کہ پاک انڈیا جنگ کے دوران انہوں نے انڈین وزیر اعظم نریندر مودی سے کہا تھا کہ اگر جنگ نہ روکی گئی تو امریکا سخت اقدامات کرے گا۔

صدر ٹرمپ نے اس موقع پر پاکستان کے فیلڈ مارشل کی بھی تعریف کی اور کہا کہ وہ ایک عظیم شخصیت اور بہترین فائٹر ہیں۔ انہوں نے وزیراعظم کی بھی تعریف کی اور کہا کہ وہ انہیں بہت پسند کرتے ہیں اور ان کا شکریہ بھی ادا کیا۔

واضح رہے کہ یہ اجلاس غزہ میں جنگ بندی کے بعد انتظامی اور بحالی امور کی نگرانی کے لیے منعقد کیا جا رہا ہے، جس میں وزیراعظم شہباز شریف بھی خصوصی دعوت پر شریک ہیں۔

اجلاس کے آغاز پر صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور بعد میں امریکی نائب صدر جے ڈی وینس کلیدی خطاب کریں گے، جس کے بعد امریکا کے درجن سے زائد اعلیٰ حکام اور بورڈ آف پیس سے وابستہ سینئر نمائندے اپنے خیالات پیش کریں گے۔

یہ بھی پڑھیں: امریکا ایران کشیدگی: پولینڈ نے اپنے شہریوں کو فوری طور پر ایران چھوڑنے کی ہدایت کر دی

بعد ازاں بورڈ آف پیس میں شامل مختلف ممالک کے ایک درجن سے زائد غیر ملکی رہنما بھی مختصر تقاریر کریں گے، جن میں غزہ کی بحالی، سیکیورٹی، انسانی امداد اور طویل المدتی استحکام سے متعلق اپنے مؤقف اور تجاویز پیش کی جائیں گی۔

امریکی حکام کے مطابق بورڈ آف پیس کا مقصد غزہ میں جنگ کے خاتمے کے بعد ایک ایسا بین الاقوامی انتظامی ڈھانچہ قائم کرنا ہے جو امن، تعمیرِ نو اور انسانی امداد کو یقینی بنا سکے۔

تاہم اس امریکی اقدام پر عالمی سطح پر مختلف آرا پائی جاتی ہیں اور بعض حلقے اس منصوبے کو متنازعہ قرار دے رہے ہیں۔