بورڈ آف پیس کے افتتاحی اجلاس میں شرکت کے بعد گفتگو کرتے ہوئے ترک وزیر خارجہ نے کہا کہ ترکیہ انفرا اسٹرکچر اور سپرا اسٹرکچر کی تعمیرِ نو، غزہ کے انتظامی نظام کی بحالی اور حتیٰ کہ بین الاقوامی استحکام فورس میں شمولیت سمیت ہر شعبے میں تعاون فراہم کرنے کے لیے آمادہ ہے۔ یہ اجلاس امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی صدارت میں منعقد ہوا جس میں 45 سے زائد ممالک کے نمائندوں نے شرکت کی
Turkish Foreign Minister Hakan Fidan at Gaza Board of Peace conference in Washington, DC:
— TRT World (@trtworld) February 19, 2026
- Turkish President Recep Tayyip Erdogan remains committed to Gaza s security, stabilisation, and recovery
- Türkiye has already been providing immense amount of humanitarian assistance to… pic.twitter.com/FXY0PkGDVT
ہاکان فیدان کا کہنا تھا کہ سربراہانِ مملکت اور حکومت کی سطح پر ہونے والا یہ پہلا اجلاس علامتی اہمیت کے ساتھ ساتھ عملی پیش رفت کا بھی پیش خیمہ ثابت ہوا ہے،غزہ کی بحالی محض عمارتوں کی تعمیر تک محدود نہیں بلکہ مقامی اداروں کی فعالیت اور عوامی خدمات کی بحالی بھی ناگزیر ہے۔
انہوں نے بتایا کہ غزہ کی نیشنل کمیٹی برائے انتظام، جو 15 رکنی ٹیکنوکریٹ باڈی ہے، کے ساتھ رابطے جاری ہیں اور اس کی سربراہی فلسطینی ماہر علی شعث کر رہے ہیں۔ ترک صدر رجب طیب اردوان بھی حالیہ دنوں میں حکمرانی اور تعمیرِ نو کے امور پر بات چیت کر چکے ہیں۔
وزیر خارجہ کے مطابق ترکیہ فوری انسانی امداد کے ساتھ ساتھ صحت، تعلیم اور دیگر شعبوں میں استعداد کار بڑھانے میں بھی معاونت فراہم کرے گا، ایک ترک بحری جہاز امدادی سامان لے کر مصر کی بندرگاہ پہنچ چکا ہے جہاں سے یہ سامان غزہ روانہ کیا جائے گا، جبکہ ابتدائی مرحلے میں 20 ہزار رہائشی کنٹینرز بھیجنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔
انہوں نے کہا کہ غزہ میں دو ملین سے زائد افراد کے لیے امن و امان اور بنیادی سہولیات کی فراہمی یقینی بنانے کے لیے مقامی پولیس فورس کے قیام پر بھی کام جاری ہے۔ ان کے بقول اگر متعلقہ فریقین متفق ہوں تو ترکیہ بین الاقوامی استحکام فورس میں فوجی دستے بھیجنے پر بھی غور کرے گا۔
انہوں نے اس عزم کا اظہار کیا کہ ترکیہ خطے میں پائیدار امن اور استحکام کے قیام کے لیے ذمہ دارانہ کردار ادا کرتا رہے گا۔







