غیر ملکی خبر رساں ایجنسی رائٹرز کے مطابق اسرائیلی فضائیہ نے پیر کے روز بیروت کے جنوبی مضافات سمیت لبنان کے مختلف علاقوں میں فضائی حملے کیے۔ لبنان کی سرکاری خبر رساں ایجنسی کے ابتدائی اعداد و شمار کے مطابق ان حملوں میں کم از کم 31 افراد جان سے ہاتھ دھو بیٹھے جبکہ 149 زخمی ہوئے۔ اسرائیل کا کہنا ہے کہ حملوں کا ہدف حزب اللہ کے اہم عسکری مراکز اور سینئر کمانڈرز تھے۔
دوسری جانب حزب اللہ نے دعویٰ کیا ہے کہ اس نے ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کی شہادت کے ردعمل میں اسرائیل پر میزائل اور ڈرون حملے کیے۔ اسرائیل بھر میں، بشمول تل ابیب اور یروشلم، فضائی حملے کے سائرن بج اٹھے جبکہ شہریوں کو محفوظ مقامات پر منتقل ہونے کی ہدایت جاری کی گئی۔
ایران کے سرکاری میڈیا کے مطابق ملک کے وسطی علاقوں سے اسرائیلی اہداف کی جانب میزائلوں کی نئی لہر داغی گئی ہے۔ ایران کی اسلامی انقلابی گارڈز کور (آئی آر جی سی) نے بیان میں کہا کہ تل ابیب میں حکومتی کمپلیکس، حیفا میں فوجی مراکز اور مشرقی یروشلم کے علاقوں کو نشانہ بنایا گیا ہے۔ بیان میں کہا گیا کہ ’’اسرائیل پر آگ کے عظیم دروازے کھول دیے گئے ہیں‘‘ اور حملوں کا سلسلہ جاری رہے گا۔
مزید پڑھیں: آیت اللہ خامنہ ای کی شہادت مسلمانوں کےخلاف اعلان جنگ ہے، ایرانی صدر
ادھر خلیجی ممالک میں بھی صورتحال کشیدہ ہے۔ کویت نے اعلان کیا کہ اس کے فضائی دفاعی نظام نے ایک دشمن ڈرون کو تباہ کر دیا۔ کویت میں امریکی سفارت خانے نے میزائل اور ڈرون حملوں کے خطرے کے پیش نظر اپنے عملے کو احتیاطی تدابیر اختیار کرنے کی ہدایت جاری کی ہے۔ عینی شاہدین کے مطابق سفارت خانے کے اطراف سیکیورٹی اداروں، ایمبولینسوں اور فائر بریگیڈ کی بھاری نفری دیکھی گئی۔
رائٹرز کے نمائندوں نے دبئی، دوحہ اور ابوظہبی کے قریب علاقوں میں بھی زور دار دھماکوں کی آوازیں سننے کی تصدیق کی ہے۔ قبرص میں برطانیہ کے رائل ایئر فورس کے اکروتیری اڈے پر بھی ڈرون حملہ کیا گیا جس سے محدود نقصان ہوا تاہم کوئی جانی نقصان رپورٹ نہیں ہوا۔ برطانوی وزارت دفاع اور قبرص کے حکام نے واقعے کی تصدیق کی ہے۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایک انٹرویو میں کہا ہے کہ ایران کے خلاف امریکی اور اسرائیلی فوجی کارروائیاں کم از کم چار ہفتے جاری رہ سکتی ہیں۔ وائٹ ہاؤس کے ایک سینئر اہلکار کے مطابق امریکا ایران کے ساتھ بات چیت کے دروازے بند نہیں کر رہا، تاہم فی الحال فوجی دباؤ برقرار رکھا جائے گا۔
مزید پڑھیں: ایران کا بحیرۂ روم میں اسٹریٹجک اہمیت کے حامل برطانوی فوجی اڈے پر حملہ
اسرائیلی فوج کے چیف آف اسٹاف نے عندیہ دیا ہے کہ حزب اللہ کے خلاف کارروائیاں طویل ہو سکتی ہیں اور اس کے لیے مسلسل دفاعی اور جارحانہ تیاری کی ضرورت ہوگی۔ اسرائیلی فوج کا دعویٰ ہے کہ اس نے تہران پر فضائی برتری حاصل کر لی ہے اور ایرانی انٹیلی جنس و عسکری مراکز کو نشانہ بنایا جا رہا ہے۔
واضع رہے کہ حزب اللہ کی باضابطہ شمولیت کے بعد تنازعہ ایک وسیع علاقائی جنگ کی شکل اختیار کر سکتا ہے، جس کے اثرات توانائی کی عالمی منڈیوں، فضائی سفر اور خطے کے امن و استحکام پر مرتب ہو رہے ہیں۔ عالمی برادری کی جانب سے فوری جنگ بندی اور سفارتی حل کی اپیلیں بھی کی جا رہی ہیں، تاہم زمینی صورتحال تیزی سے بدل رہی ہے۔







