اوول آفس میں جرمن چانسلر سے ملاقات سے قبل میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے ٹرمپ کا کہنا تھا کہ ایران کا بحری بیڑا، فضائیہ، ریڈار سسٹم اور فضائی نگرانی کا نظام تقریباً مکمل طور پر تباہ کر دیا گیا ہے۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ ابتدائی حملوں میں 49 افراد ہلاک ہوئے جبکہ نئی قیادت کے انتخاب کے لیے ہونے والے ایک اہم اجلاس کو بھی نشانہ بنایا گیا۔
انہوں نے مزید کہا کہ جن افراد کو ممکنہ نئی قیادت سمجھا جا رہا تھا، ان میں سے بیشتر مارے جا چکے ہیں اور اگر ضرورت پڑی تو نئی قیادت کو بھی نشانہ بنایا جا سکتا ہے،ایران کی عسکری صلاحیت کو مکمل طور پر ختم کرنے کے لیے پرعزم ہے۔
واضح رہے کہ امریکا اور اسرائیل کی مشترکہ کارروائی کا مقصد ایران کے جوہری اور میزائل پروگرام کو کمزور کرنا اور موجودہ نظام پر دباؤ بڑھانا بتایا جا رہا ہے۔ تاہم اس حوالے سے امریکی حکومت کے بیانات میں تضاد بھی سامنے آیا ہے۔ امریکی وزیر خارجہ نے کہا کہ کارروائی اسرائیل کے ممکنہ حملے کے بعد کی گئی، جبکہ صدر ٹرمپ کا مؤقف ہے کہ امریکا نے ایران کے متوقع حملے کو روکنے کے لیے پیشگی اقدام کیا۔
مزید پڑھیں: ایران میں رجیم چینج کی کوششیں نہ روکی گئیں تو تیسری عالمی جنگ چھڑ سکتی ہے، روس
دوسری جانب ایران نے جوابی کارروائی کرتے ہوئے بحرین، کویت اور متحدہ عرب امارات میں امریکی فوجی اڈوں اور ریاض میں امریکی سفارت خانے کو نشانہ بنانے کا دعویٰ کیا ہے۔ خطے میں کشیدگی مزید بڑھ گئی ہے اور لبنان کی تنظیم حزب اللہ بھی ایران کی حمایت میں اسرائیل کے خلاف حملوں میں شامل ہو چکی ہے۔
تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اگر امریکا واقعی تیسری فوجی لہر شروع کرتا ہے تو یہ تنازع پورے مشرق وسطیٰ کو اپنی لپیٹ میں لے سکتا ہے، جس کے عالمی سلامتی اور معیشت پر بھی گہرے اثرات مرتب ہوں گے۔







