ایرانی مسلح افواج کے ترجمان بریگیڈیئر جنرل ابوالفضل شیخرچی نے سرکاری ٹی وی پر خطاب کرتے ہوئے کہا کہ اگر اسرائیل نے بیروت میں ایران کے سفارتخانے یا نمائندوں کو نشانہ بنایا تو ایران بھرپور اور متناسب جواب دے گا۔
ان کا کہنا تھا کہ ایسی صورت میں دنیا بھر میں موجود اسرائیلی سفارتی تنصیبات کو جائز ہدف تصور کیا جائے گا، اسرائیلی حکومت بین الاقوامی قوانین اور سفارتی آداب کی بارہا خلاف ورزی کر چکی ہے۔
جنرل شیخرچی نے دعویٰ کیا کہ ایران اپنی صلاحیتوں کے باوجود عالمی برادری اور سفارتی تعلقات کے احترام میں تحمل کا مظاہرہ کرتا رہا ہے۔
انہوں نے کہا کہ امریکا اور اسرائیل کے علاوہ ایران کا کسی اور ملک سے کوئی تنازع یا دشمنی نہیں ہے اور ایران عالمی سطح پر تعمیری روابط کا خواہاں ہے۔
ایرانی ترجمان نے واضح کیا کہ اگر ایران کے سفارتخانے پر حملہ کیا گیا تو یہ ایران کی پالیسی میں مکمل تبدیلی کا باعث بنے گا۔ اگر صہیونی ریاست نے ایسا جرم کیا تو ہم بلا شبہ جوابی کارروائی کریں گے اور دنیا بھر میں ان کے سفارتخانوں کو جائز ہدف سمجھا جائے گا۔
انہوں نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ ایران اسرائیل اور اس کے اہم اتحادی امریکا کو گھٹنے ٹیکنے پر مجبور کرنے کے لیے پرعزم ہے۔
واضح رہے کہ یہ بیان ایک روز قبل اسرائیلی فوج کے عربی زبان کے ترجمان آویچے آدری کے اس انتباہ کے بعد سامنے آیا، جس میں انہوں نے لبنان میں موجود ایرانی نمائندوں کو 24 گھنٹوں کے اندر ملک چھوڑنے کا الٹی میٹم دیا تھا اور خبردار کیا تھا کہ بصورتِ دیگر انہیں نشانہ بنایا جا سکتا ہے۔
یہ دھمکیاں ایسے وقت سامنے آئی ہیں جب ایران اور اسرائیل کے درمیان کشیدگی عروج پر ہے۔ ایران کا کہنا ہے کہ حالیہ امریکی و اسرائیلی فضائی حملوں میں ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کو نشانہ بنایا گیا اور ایک ہزار سے زائد افراد ہلاک ہوئے، جب کہ شہری تنصیبات کو بھی نقصان پہنچا۔
مزید پڑھیں: پاکستان میں دہشت گردی کے لیے افغان سرزمین کا استعمال ناقابلِ قبول ہے، فیلڈ مارشل
ادھر لبنان میں اسرائیلی فضائی حملوں میں گزشتہ 48 گھنٹوں کے دوران درجنوں افراد کے جاں بحق اور سینکڑوں کے زخمی ہونے کی اطلاعات ہیں۔
لبنان کی مزاحمتی تنظیم حزب اللہ نے اسرائیلی فوجی اہداف پر حملوں کی ذمہ داری قبول کی ہے اور کہا ہے کہ یہ کارروائیاں لبنان کے دفاع اور ایرانی قیادت کے قتل کے ردعمل میں کی جا رہی ہیں۔
دوسری جانب ایران نے بھی اسرائیلی علاقوں اور مغربی ایشیا میں امریکی مفادات پر ڈرون اور میزائل حملوں کا دعویٰ کیا ہے، جس سے خطے میں ایک وسیع تر تصادم کے خدشات بڑھ گئے ہیں۔







