لندن میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے برطانوی وزیراعظم نے کہا کہ ان کی پہلی ترجیح برطانوی عوام کی حفاظت کو یقینی بنانا ہے۔
"While the region has been plunged into chaos, my focus is providing calm, level-headed leadership in the national interest"
— BBC Politics (@BBCPolitics) March 5, 2026
PM Keir Starmer gives update on situation in Middle East
Follow live: https://t.co/CLNqLOlYF1 pic.twitter.com/q8nk5sqJd2
کیئر سٹارمر کا کہنا تھا کہ برطانیہ کا مؤقف ہے کہ ایران سے تنازعات کا حل بات چیت کے ذریعے ہونا چاہیے، جس کے نتیجے میں ایران اپنے جوہری عزائم سے دستبردار ہو جائے۔
انہوں نے کہا کہ اسی وجہ سے برطانیہ نے ایران پر ابتدائی حملوں میں حصہ نہیں لیا، تاہم جب ایران کی جانب سے دیگر ممالک پر حملے شروع ہوئے تو صورتحال تبدیل ہو گئی۔
پریس کانفرنس کے دوران برطانوی وزیراعظم نے امریکا اور اسرائیل کے ایران کے خلاف حملوں میں شامل نہ ہونے اور حملوں کے لیے امریکی طیاروں کو برطانوی اڈے استعمال کرنے کی اجازت نہ دینے کے فیصلے کا بھی دفاع کیا۔
ان کا کہنا تھاکہ میری توجہ ایسی پُرسکون قیادت فراہم کرنے پر ہے جو قومی مفاد میں فیصلے کرے اور دباؤ کے باوجود اپنی اقدار اور اصولوں پر قائم رہے۔
کیئر سٹارمر نے کہا کہ برطانوی عوام کی حفاظت ان کی اولین ترجیح ہے، اسی لیے امریکا اور اسرائیل کے حملے شروع ہونے سے پہلے ہی برطانیہ نے خطے میں اپنے دفاعی اثاثوں میں اضافہ کرنا شروع کر دیا تھا تاکہ اپنے مفادات کا تحفظ کیا جا سکے۔
ان کے مطابق جنوری اور فروری کے دوران برطانیہ نے اپنے دفاعی اثاثے قطر اور قبرص منتقل کیے، جن میں جنگی طیارے، فضائی دفاعی میزائل اور جدید ریڈار سسٹم شامل تھے۔
برطانوی وزیراعظم کے مطابق یہ اقدامات اس بات کو یقینی بنانے کے لیے کیے گئے تھے کہ کسی بھی ممکنہ تنازعے کی صورت میں برطانیہ مکمل طور پر تیار ہو۔
Watch live: my press conference on the situation in the Middle East. https://t.co/d89dxT9YNg
— Keir Starmer (@Keir_Starmer) March 5, 2026
انہوں نے کہا کہ جیسے ہی ہفتے کے روز حملے شروع ہوئے، برطانیہ نے فوری طور پر اپنے طیارے فضا میں بھیجے، جو کئی ڈرون تباہ کرنے میں کامیاب ہوئے۔ ان ڈرونز میں سے کم از کم ایک اس اڈے کی طرف بڑھ رہا تھا جہاں برطانوی فوجی تعینات تھے۔
کیئر سٹارمر کے مطابق برطانیہ اس بات کو بھی یقینی بنا رہا ہے کہ اس کے جنگی طیاروں اور میزائلوں کے ذخائر میں کمی نہ آئے اور وہ خطے میں موجود اتحادیوں کی جانب سے مزید مدد کی درخواستوں کا جواب دینے کے لیے بھی تیار ہے۔
پریس کانفرنس میں برطانوی وزیراعظم نے قطر میں چار اضافی طیارے اور قبرص میں ہیلی کاپٹر بھیجنے کا اعلان کیا۔ انہوں نے کہا کہ برطانیہ نے اپنے فوجی اڈے دفاعی کارروائیوں کے لیے استعمال کرنے کی اجازت دے دی ہے۔
انہوں نے یہ بھی بتایا کہ برطانوی حکومت خلیجی ممالک میں موجود اپنے شہریوں کے انخلا کے لیے کام کر رہی ہے۔ اب تک تقریباً ایک لاکھ 40 ہزار افراد نے حکومت کو خطے میں اپنی موجودگی سے آگاہ کیا ہے۔






