غیرملکی میڈیا کے مطابق پاسدارانِ انقلاب کا کہنا ہے کہ انہوں نے بحرین کے علاقے جُفیر میں  واقع امریکی فوجی اڈے کو میزائلوں سے نشانہ بنایا ہے، یہ حملہ قشم میں قائم پانی کے پلانٹ پر امریکی حملے کے جواب میں کیا گیا۔

خیال رہے کہ ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے اس سے پہلے کہا تھا کہ امریکی حملے کے باعث 30 دیہات کو پانی کی فراہمی متاثر ہوئی ہے۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے تازہ بیانات کے بعد ایک بیان میں ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی کا کہنا ہے کہ ایران کی ’تنازعہ کم کرنے پر آمادگی‘ کو امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ختم کر دیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ ایران کے اقدامات میں شدت کی ذمہ داری امریکا پر عائد ہوگی، ٹرمپ نے ایران کی ’صلاحیتوں، عزم اور ارادے‘ کا غلط اندازہ لگایا اور اس کی تشریح غلط انداز میں کی۔

ایرانی وزیرِ خارجہ نے کہا کہ اگر ٹرمپ کشیدگی بڑھانے کی کوشش کریں تو اس کے لیے ہماری طاقتور مسلح افواج طویل عرصے سے تیار ہیں۔

انہوں نے خبردار کیا کہ ایران پر جنگ مسلط کیے جانے کے بعد اب اگر اُس کے حقِ دفاع کے دوران جاری کارروائیوں میں شدت آتی ہے تو اس کی مکمل طور پر ذمہ داری امریکی انتظامیہ پر ہوگی۔

عباس عراقچی کا کہنا تھا کہ ایران کی جانب سے اس شرط پر ’تنازعہ کم کرنے پر آمادگی کہ ہمسایہ ملک کی زمین ایران پر حملے کے لیے استعمال نہ ہو گی کو ٹرمپ نے غلط انداز میں لیا اور ایران کی صلاحیتوں پر شق کیا۔

مزید پڑھیں: امریکا کا ایران کو زیادہ شدت سے نشانہ بنانے کا اعلان : ’فوج نئے اہداف پر غور کررہی ہے۔‘

واضح رہے کہ اس سے قبل سنیچر کے روز امریکا کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے ایک بیان میں کہا تھا کہ ایران کو ’بہت زیادہ شدت سے نشانہ‘ بنایا جائے گا اور فوج نئے اہداف پر غور کر رہی ہے۔

سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر جاری بیان میں امریکی صدر نے ایرانی صدر کے بیان کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ ایران نے ’معافی مانگی ہے اور اپنے مشرق وسطیٰ کے پڑوسیوں کے سامنے ہتھیار ڈال دیے ہیں، جب کہ وعدہ کیا ہے کہ وہ اب ان پر حملہ نہیں کرے گا۔

صدر ٹرمپ نے دعویٰ کیا کہ ایرانی صدر نے یہ وعدہ صرف امریکا اور اسرائیل کے حملوں کی وجہ سے کیا ہے۔

ایران کی پارلیمانی قومی سلامتی کمیٹی نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ سپریم لیڈر آیت اللہ خامنہ ای کی شہادت کا بدلہ لینے تک دشمنوں کے خلاف جنگ جاری رہے گی۔

ایرانی صدر مسعود پزشکیان کا کہنا ہے کہ علاقائی ریاستوں سے دوستانہ تعلقات کے خواہاں ہیں، یہ خواہش امریکا سے مقابلے میں ایران کے حق دفاع کی نفی نہیں کرتی۔

ایرانی صدر نے اپنے بیان میں کہا کہ ہم نے اپنے دوست ہمسایہ ممالک پر نہیں بلکہ امریکی فوجی اڈوں پر حملے کیے ہیں، ہم نے خطے میں امریکی تنصیبات اور سہولیات پر حملے کیے ہیں۔