اسرائیلی فوج نے دعویٰ کیا ہے کہ تازہ حملوں میں پاسداران انقلاب کی ایرو اسپیس فورس کے ہیڈ کوارٹر کو نشانہ بنایا گیا، یہ مرکز ایرانی خلائی ایجنسی سے منسلک ایک تحقیق، مواصلات اور سیٹلائٹ مانیٹرنگ کا اہم مقام تھا۔

اسرائیلی حکام کے مطابق ان کارروائیوں کے دوران درجنوں دیگر مقامات کو بھی نشانہ بنایا گیا، جن میں تقریباً 50 بنکر شامل ہیں جہاں مبینہ طور پر گولہ بارود ذخیرہ کیا گیا تھا۔ اس کے علاوہ پاسدارانِ انقلاب کے ایک کمپلیکس اور داخلی سکیورٹی مرکز کو بھی حملوں کا نشانہ بنایا گیا۔

اسرائیلی فوج نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس (سابقہ ٹوئٹر) پر جاری بیان میں خبردار کیا کہ وہ سپریم لیڈر (شہید) آیت اللہ علی خامنہ ای کے ہر جانشین کا تعاقب کرے گی۔

مزید پڑھیں: نئے سپریم لیڈر کو واشنگٹن کی حمایت حاصل نہ ہوئی تو وہ زیادہ عرصہ اقتدار میں نہیں رہ سکے گا: امریکا

فارسی زبان میں جاری ایک پوسٹ میں اسرائیلی فوج نے کہا کہ وہ خامنہ ای کے جانشین کے انتخاب میں شامل ہر شخص کو بھی ہدف بنائے گی۔ اسرائیلی بیان کا اشارہ اس مذہبی ادارے کی طرف تھا جو ایران میں سپریم لیڈر کے انتخاب کا اختیار رکھتا ہے، یعنی اسمبلی آف ایکسپرٹس۔

ایرانی میڈیا کے مطابق اس ادارے کا اجلاس اتوار کو متوقع ہے جس میں آیت اللہ علی خامنہ ای کے جانشین کے نام کا اعلان کیا جا سکتا ہے۔

مہر نیوز ایجنسی کے مطابق اسمبلی آف ایکسپرٹس کے رکن محمد مہدی میرباقری نے کہا ہے کہ نئے سپریم لیڈر کے لیے ارکان کی اکثریت ایک نام پر متفق ہو چکی ہے۔

دوسری جانب عالمی میڈیا رپورٹس کے مطابق تہران میں حالیہ فضائی حملوں کے دوران زور دار دھماکوں کی آوازیں سنی گئیں، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ شہر کے مختلف حصوں میں حملوں کا سلسلہ جاری ہے۔