محکمہ موسمیات کے مطابق ایران کے دارالحکومت تہران اور اس کے گردونواح میں ’سیاہ تیزابی بارش‘ کی اطلاعات موصول ہوئی ہیں، جسے ماحولیاتی ماہرین صنعتی دھوئیں، کاربن کے ذرات اور کیمیائی مادوں کے بادلوں کا نتیجہ قرار دے رہے ہیں، تیل کے ذخائر اور تنصیبات میں آگ لگنے سے بڑی مقدار میں کاربن اور دیگر مضر گیسیں فضا میں شامل ہوئیں، جس کے باعث مقامی سطح پر فضائی آلودگی میں شدید اضافہ دیکھا جا رہا ہے۔

پاکستان کے محکمہ موسمیات نے موجودہ صورتحال پر نظر رکھتے ہوئے بتایا ہے کہ ابھی تک پاکستان میں اس سیاہ تیزابی بارش کے براہِ راست اثرات ریکارڈ نہیں ہوئے۔ تاہم خطے کی موسمی صورتحال کو مسلسل مانیٹر کیا جا رہا ہے تاکہ کسی بھی ممکنہ تبدیلی کا بروقت جائزہ لیا جا سکے۔

محکمہ موسمیات نے کہا کہ ایران کے بعض علاقوں سے موسمیاتی ڈیٹا جنگی حالات کے باعث مکمل طور پر موصول نہیں ہو رہا کیونکہ وہاں انٹرنیٹ اور مواصلاتی نظام متاثر ہونے کی اطلاعات ہیں۔ اس وجہ سے پاکستانی ماہرین زیادہ تر سیٹلائٹ تصاویر اور عالمی موسمیاتی ڈیٹا کی مدد سے صورتحال کا جائزہ لے رہے ہیں۔

 تہران جغرافیائی طور پر ایران کے شمال مغربی حصے میں واقع ہے، اس لیے وہاں پیدا ہونے والی آلودگی کا براہِ راست اثر پاکستان تک پہنچنے کے امکانات کم ہیں۔ اگر ہوا کے رخ میں بڑی تبدیلی نہ آئی تو زیادہ تر اثرات ایران کے اندرونی علاقوں یا زیادہ سے زیادہ افغانستان تک محدود رہ سکتے ہیں۔

دوسری جانب محکمہ موسمیات نے خبردار کیا ہے کہ اگر ایران کے جنوبی علاقوں میں آلودگی کی سطح میں اضافہ ہوا تو مغربی ہواؤں کے ذریعے آلودہ ذرات پاکستان کے مغربی علاقوں خصوصاً بلوچستان تک پہنچ سکتے ہیں۔ ایسی صورت میں وہاں فضائی معیار متاثر ہونے کا خدشہ موجود ہے، تاہم اس کا انحصار آئندہ چند دنوں کی موسمی صورتحال پر ہوگا۔

مزید پڑھیں: دبئی: میزائل حملوں میں دو پاکستانی شہری جاں بحق

محکمہ موسمیات کے مطابق تیل کے ذخائر میں لگنے والی آگ کے باعث فضا میں کاربن کے اخراج میں غیر معمولی اضافہ ہوا ہے، جس سے بالائی فضا میں درجہ حرارت بڑھنے کا امکان ہے۔ درجہ حرارت میں اضافے کے نتیجے میں فضا کی نمی برقرار رکھنے کی صلاحیت بھی بڑھ سکتی ہے، جس سے مستقبل میں خطے کے بعض علاقوں میں بارشوں کے نظام پر اثرات مرتب ہونے کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے۔

ماہرین ماحولیات کا کہنا ہے کہ اگر تیل کے ذخائر میں لگی آگ اور اس سے پیدا ہونے والی آلودگی طویل عرصے تک برقرار رہی تو اس کے اثرات نہ صرف ایران بلکہ اس کے پڑوسی ممالک کی فضائی کیفیت اور موسمی نظام پر بھی پڑ سکتے ہیں۔ اسی لیے خطے کے تمام ممالک کی موسمیاتی ایجنسیاں صورتحال پر گہری نظر رکھے ہوئے ہیں۔

محکمہ موسمیات نے شہریوں کو فی الحال تشویش میں مبتلا نہ ہونے کا مشورہ دیتے ہوئے کہا ہے کہ پاکستان میں کسی ہنگامی صورتحال کا خطرہ نہیں، تاہم فضائی آلودگی اور موسمی تبدیلیوں کے ممکنہ اثرات کے حوالے سے مسلسل نگرانی جاری ہے۔